کراچی :متحدہ لندن کے کارکنان کا مارچ، حالات کشیدہ، پانچ کارکنان گرفتار

شائع 09 دسمبر 2016 01:21pm
File Photo File Photo

کراچی : متحدہ لندن کے کارکنان کا یوم شہداء کے موقعے پر یادگار شہداء پر حاضری کیلئے مارچ کے دوران حالات کشیدہ صورتحال اختیار کرگئے، رینجرز نے پانچ کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

ایم کیوایم لندن نے یوم شہداء منانے کے اعلان کے بعد کارکنان کی بڑی تعداد نے یادگار شہداء جانے کیلئے مارچ شروع کیا، تاہم رینجرز نے لیاقت علی خان چوک پر کارکنان کو روک دیا گیا، چند کارکنوں نے پارٹی کا جھنڈا لگانے اور وال چاکنگ کی کوشش کی جس پر رینجرز ایکشن میں آگئی، لاٹھی چارج کیا اور پانچ کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

کارکن جیسے ہی یادگار شہداء جانے کیلئے آگے بڑھے،تو قانو نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں لیاقت علی خان چوک پر روک دیا۔ایم کیوایم لندن کی خواتین اور مرد کارکنوں نے سڑک پر چادریں بچھا کر قرآن خوانی شروع کردی۔

چند کارکنان نے لیاقت علی خان چوک پر چڑھ کر جھنڈا لگانے کی کوشش کی، جس پر رینجرز نے فوری ایکشن لیا اور کارکنان کو روکنے کی کوشش کی گئی،اس دوران کچھ کارکنان نے بانی ایم کیوایم کا نعرہ دیوار پر لکھنا چاہتا،تو معاملہ مزید بگڑ گیا۔

پولیس اور رینجرز اہلکاروں نے کارکنان پر لاٹھی چارج شروع کردیا اور پانچ کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔کارکنوں کی جانب سے بھرپور احتجاج کیا گیا،نعرے بازی ہوئی، بھگدڑ کے دوران اطراف میں کھڑی موٹرسائیکلیں بھی گر گئیں۔

کارکنان نے یادگارہ شہداء جانے پر روکے جانے اور حراست میں لیے جانے کیخلاف احتجاج کیا،مذاکرات کے بعد خواتین کارکنان کو یادگار شہدا جانے کی اجازت دیدی گئی۔ احتجاج کے باعث اطراف کی سڑکیں بھی بند ہوگئیں۔ جس کے باعث گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔

رینجرز اور پولیس کی جانب سے کارکنوں کو کناروں پر کردیا گیا،جس کے بعد صورتحال کنٹرول میں آگئی۔