سپریم کورٹ:طیبہ تشدد کیس،3دن میں تحقیقاتی رپورٹ طلب
فائل فوٹو
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس کی تحقیقات کیلئے ڈی آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے 3 روزمیں تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی۔
سپریم کورٹ میں جمعے کو طیبہ تشدد کیس کی سماعت 2 رکنی بینچ نے کی تاہم کیس کی مرکزی کردارکمسن طیبہ کوعدالت میں پیش نہ کیا جاسکاجبکہ سیشن جج کی اہلیہ ماہین ظفر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے بدھ کے روز بچی اوراس کے حقیقی والدین کو ریکارڈ سمیت پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کوئی والدین بچوں کے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرسکتےہم دیکھیں گے کہ راضی نامہ کیسے ہوا ۔
جن بچوں حقوق کی حفاظت ان کے والدین نہیں کرسکتے ان کی گارڈین عدالت ہوتی ہے،اس کیس میں بھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،بچی کا جلد طبی معائنہ کرایا جائے تاکہ ثبوت ضائع نہ ہوں۔
عدالت نے پولیس کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے 2 ہفتوں کی استدعا مسترد کردی۔
عدالت نے ڈی آئی جی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے 3 دن میں رپورٹ طلب کرلی گئی۔
سپریم کورٹ نے اسسٹنٹ کمشنرپوٹهوہار کو بهی آئندہ سماعت پرطلب کرلیا۔
دوسری جانب جج کی اہلیہ ملزمہ ماہین ظفر کو جواب جمع کرانے کیلئے وقت دیتے ہوئے سماعت بدھ تک ملتوی کردی گئی۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔