امریکی کارروائی کا خدشہ، ایران نے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ سیل کردیا

ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے نمایاں طور پر اقدامات تیز کر دیے ہیں: سی این این
شائع 13 جون 2026 10:22am

ایران نے امریکا کی کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ سیل کردیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے نمایاں طور پر اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سے واقف پانچ ذرائع نے بتایا کہ ایران نے دانستہ طور پر سرنگیں منہدم کر دی ہیں اور داخلی راستوں کو بارودی سرنگوں سے پھنسا دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً آدھا ٹن انتہائی افزودہ یورینیم تک رسائی اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل، خطرناک اور وقت طلب ہو چکی ہے، جبکہ ایک ماہ قبل صورتحال نسبتاً کم پیچیدہ تھی۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ اشارے دے رہے تھے کہ وہ ممکنہ طور پر امریکی فوج کو یہ مواد قبضے میں لینے کا حکم دے سکتے ہیں۔

سی این این کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے دفاعی اقدامات امریکی انتظامیہ کی اس مجوزہ حکمت عملی کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں جس کے تحت تہران سے اس یورینیم کو حاصل کر کے تلف کرنا یا ملک سے باہر منتقل کرنا شامل ہے۔ اس پیش رفت نے یہ سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ اس انتہائی خطرناک کام کو انجام دینے کی ذمہ داری کون اٹھائے گا۔

ایران کے اقوام متحدہ میں سفارتی مشن نے اس پر ردعمل دینے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی اس پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔

صدر ٹرمپ بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ جاری مذاکرات میں امریکا کی ترجیح اس مواد کی حفاظت اور وصولی ہے، جو ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے معاملے سے جڑا ہوا ہے، جہاں ایران نے عملی طور پر راستہ بند کر رکھا ہے۔

سی این این کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی انتظامی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں فریقین ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں جس کے تحت ایران اپنے افزودہ یورینیم کو امریکا کے حوالے کرے گا۔

عہدیدار کے مطابق اس مواد کو موقع پر ہی تلف کیا جائے گا اور بعد ازاں اسے ملک سے باہر منتقل کیا جائے گا۔

تاہم امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے اس مجوزہ معاہدے کی مختلف اور بعض اوقات متضاد تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ حتمی شرائط واضح نہیں ہو سکیں۔

ایک نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے کو مبینہ مسودہ لیک ہونے کے بعد معاملہ مزید حساس ہو گیا ہے، جس پر امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیا۔

سابق امریکی نیوکلیئر مواد منتقلی پروگرام کے سربراہ اسکاٹ روئکر کے مطابق اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو انتہائی افزودہ یورینیم کی منتقلی مزید مشکل ہو جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں ایران کو مکمل ذخیرہ ایک مرکزی مقام پر لانے اور اس کی تصدیق کے بعد اسے منتقل یا کم افزودہ کرنے کا کہا جائے تو اس صورت میں تمام ذمہ داری تہران پر عائد ہو گی کہ وہ مکمل ذخیرہ ظاہر کرے۔

تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ کچھ مقدار ناقابلِ رسائی ہے، جس سے مستقبل میں مکمل شفافیت پر سوال اٹھ سکتا ہے۔

ان کے بقول اس صورت میں عالمی برادری کو یہ یقین نہیں رہے گا کہ ایران مستقبل میں بھی اس مواد تک دوبارہ رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔

بین الاقوامی برادری کا خیال ہے کہ اس ذخیرے کا بڑا حصہ وسطی ایران میں واقع کے تباہ شدہ سرنگی نظام میں موجود ہے، جبکہ کچھ مواد دیگر مقامات پر بھی رکھا گیا ہے۔ اصفہان نیوکلیئر کمپلیکس اس معاملے کا مرکزی مقام سمجھا جا رہا ہے۔

مزید کہا گیا کہ مئی کے وسط میں امریکی فوج ایک ایسی کارروائی کی تیاری کر رہی تھی جس کا مقصد اس نیوکلیئر مواد کو قبضے میں لینا تھا، تاہم بعد میں اسے انتہائی خطرناک قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے ایران نے ان مقامات کو مزید مضبوط اور محفوظ بنا دیا ہے جہاں یہ افزودہ یورینیم زیر زمین موجود سمجھا جاتا ہے۔