فنانس بل 27-2026 کا حتمی ڈرافٹ جاری، ٹیکسوں کا نیا بوجھ، لگژری اشیا مہنگی

650 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات تجویز،ریٹیل اشیا اور پراپرٹی خریداری پر نئی شرائط شامل
شائع 13 جون 2026 12:23pm

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فنانس بل 2026-27 کا حتمی مسودہ جاری کر دیا ہے، جس میں 15 ہزار 264 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے 650 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ مجوزہ اقدامات کے تحت متعدد ریٹیل اشیا، لگژری گاڑیوں، جائیداد کی خریداری اور مختلف کاروباری شعبوں پر نئے ٹیکس عائد کیے جانے کی سفارش کی گئی ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کیے گئے فنانس بل 2026-27 کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 650 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 150 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات شامل ہیں۔

فنانس بل میں ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی سیکڑوں اشیا کو سیلز ٹیکس کے دائرے میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ فہرست میں دودھ، فارمولا ملک، دودھ سے تیار ہونے والی مختلف مصنوعات، فروٹ جوسز، جیمز، مختلف مشروبات، گھی، خوردنی تیل، مٹھائیاں، پاستا اور مختلف ساسز شامل ہیں، جن پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اسی طرح زرعی ادویات، جراثیم کش مصنوعات، پلاسٹک سے بنی گھریلو اشیا، کچن ویئر، کراکری، اسٹوریج آئٹمز اور دیگر گھریلو استعمال کی مصنوعات بھی ٹیکس کی زد میں آنے سے مہنگی ہو سکتی ہیں۔

فنانس بل میں بیگز، سوٹ کیس، ہینڈ بیگز، سفری سامان اور تمام اقسام کے جوتوں کو بھی سیلز ٹیکس کے دائرہ کار میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ باتھ روم فٹنگز، سینٹری ویئر اور واش روم سے متعلق سامان پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

گاڑیوں اور آٹوموبائل لوازمات کی ریٹیل فروخت پر بھی سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ بل کے مطابق 2 کروڑ سے 3 کروڑ روپے مالیت کی لگژری ایس یو ویز پر 30 فیصد جبکہ 3 کروڑ روپے سے زائد قیمت کی گاڑیوں پر 40 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

پراپرٹی کے شعبے میں بھی نئی شرائط متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ فنانس بل کے مطابق 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے والے افراد کو اپنے ذرائع آمدن ظاہر کرنا ہوں گے۔ مجوزہ قانون کے تحت آمدن کے ذرائع ثابت نہ کرنے والے افراد کو ایسی جائیداد خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

فنانس بل میں نان فائلرز پر پراپرٹی کی خرید و فروخت کے اضافی ٹیکس برقرار رکھنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ یہ قانون یکم جولائی 2026 سے نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

کاروباری شعبے سے متعلق تجاویز کے مطابق غیر رجسٹرڈ سپلائرز سے خریداری پر 5 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ ڈسٹری بیوٹرز پر ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد سے بڑھا کر 0.50 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح خام مال درآمد کر کے فروخت کرنے والے کمرشل امپورٹرز پر 3 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔

دوسری جانب بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے بزنس کلاس فضائی ٹکٹوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں نمایاں کمی تجویز کی گئی ہے۔ امریکہ کے لیے بزنس کلاس ٹکٹ پر ایف ای ڈی 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے کم کر کے 50 ہزار روپے، یورپ کے لیے 2 لاکھ 10 ہزار روپے سے کم کر کے 40 ہزار روپے اور مشرق وسطیٰ و افریقہ کے لیے ایک لاکھ 5 ہزار روپے سے کم کر کے 25 ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

فنانس بل میں سولر پینلز پر کسی نئے ٹیکس کے نفاذ کی تجویز شامل نہیں کی گئی، جس سے قابل تجدید توانائی کے شعبے کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔