Aaj TV News

BR100 4,820 Decreased By ▼ -32 (-0.66%)
BR30 25,669 Decreased By ▼ -3 (-0.01%)
KSE100 44,978 Decreased By ▼ -208 (-0.46%)
KSE30 18,443 Decreased By ▼ -42 (-0.23%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 725,602 4584
DEATHS 15,501 58
Sindh 269,126 Cases
Punjab 250,459 Cases
Balochistan 20,321 Cases
Islamabad 66,380 Cases
KP 99,595 Cases

بھارتی میڈیا کی جانب سے دعوے کیے جا رہے ہیں کہ گلوکارہ میشا شفیع کو اداکار و گلوکار علی ظفر پر ہراسانی کا جھوٹا الزام عائد کرنے پر تین برس قید کی سزا سنادی گئی ہے۔

انڈیا میں لگ بھگ ہر میڈیا آؤٹ لیٹ نے یہ خبر شائع کی ہے لیکن پاکستانی میڈیا پر ایسی کوئی خبر سرے سے موجود ہی نہیں ہے، جس کے باعث سوال یہ اٹھا کہ پاکستان کی عدالتی کارروائی کا پاکستانی میڈیا کو پتہ ہی نہیں چلا لیکن انڈین میڈیا کو کیسے پتہ چل گیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق یہ ساری کہانی امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی پاکستانی صحافی سعید شاہ کے ایک آرٹیکل سے شروع ہوتی ہے۔ تین روز قبل شائع ہونے والے اس آرٹیکل میں سعید شاہ نے لکھا کہ اگر میشا شفیع پر جھوٹا دعویٰ کرنے کا الزام ثابت ہوگیا تو انہیں تین سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں ایک امکان کو بیان کیا تھا لیکن برطانوی اخبار ڈیلی میل نے اسے حقیقت کے قریب تر کردیا اورکہا کہ میشا شفیع کو جیل کی سزا کا خطرہ ہے۔ ڈیلی میل نے اس خبر کی سرخی اس طریقے سے جمائی کہ عام پڑھنے والے کو سمجھ نہیں آتی کہ سزا ہوگئی ہے یا ہونی ہے یا سزا کا امکان ہے۔

جب کہانی انڈین میڈیا تک پہنچی تو انہوں نے تو حد ہی کردی اور میشا شفیع کو سزا کرادی۔ ٹائمز آف انڈیا نے لکھا کہ میشا شفیع کو علی ظفر پر ہراسانی کا جھوٹا الزام عائد کرنے پر تین سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی جانب سے خبر شائع ہوتے ہی باقی انڈین میڈیا نے بھی بھیڑ چال اپنائی اور اسی خبر کو شائع کردیا۔

انڈین میڈیا نے جب میشا شفیع کو تین سال قید کی سزا سنائی تو پاکستانی کنفیوژن کا شکار ہوگئے اور سوشل میڈیا پر اس بارے میں تبصرے کرنے لگے۔ پاکستانیوں کے تجسس کا یہ عالم ہے کہ میشا شفیع اور علی ظفر کے نام ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہوچکے ہیں۔

اس کیس کے بارے میں جب ہنگامہ حد سے بڑھا تو میشا شفیع کے وکیل اسد جمال کو ایک وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے میشا شفیع کو کوئی سزا نہیں سنائی، یہ انتہائی بری بات ہے کہ میڈیا کس طرح فیک نیوز کا حصہ بن گیا۔