Aaj TV News

BR100 5,205 Decreased By ▼ -24 (-0.45%)
BR30 26,756 Decreased By ▼ -198 (-0.74%)
KSE100 47,793 Decreased By ▼ -80 (-0.17%)
KSE30 19,161 Decreased By ▼ -32 (-0.17%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,004,694 2,819
DEATHS 23,016 45
Sindh 364,784 Cases
Punjab 352,682 Cases
Balochistan 29,494 Cases
Islamabad 85,519 Cases
KP 141,627 Cases

اسمارٹ فونزکےمتعلق حال ہی ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیاگیا ہےکہ 10 سال تک روز مرہ کی بنیاد پر17 منٹ اسمارٹ فون کے استعمال سےدماغ میں کینسرکے ٹیومر پیدا ہونے کے خطرات 60 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔

برکیلےکی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں کی جانے والی ایک متنازعہ تحقیق میں دنیا بھر کی موبائل فون کے استعمال اور صحت کے متعلق 46 مختلف تحقیقوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق میں ماہرین کو معلوم ہوا کہ 1000گھنٹوں تک موبائل فون کا استعمال یا 10برس سے زائد عرصے میں 17منٹ فی دن کے حساب سے استعمال کے سبب کینسر کے ٹیومر پیدا ہونے کے خطرات 60 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔

محققین کے مطابق موبائل سگنلز کی شعائیں خلیاتی نظام میں خلل ڈالتی ہیں اور نتیجتاً اسٹریس پروٹین بنتے ہیں جو ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں، ٹیومرز بناتے ہیں اور شدید معاملات میں خلیات مر تک جاتے ہیں۔

تحقیق کے مصنف جول موسکووٹز نے کہا کہ لوگوں کو موبائل فون کا استعمال کم کردینا چاہیئے، اپنے جسم سے دور رکھنا چاہیئے اور کالز کےلئے جہاں ممکن ہو لینڈ لائن استعمال کرنی چاہیئے۔

انہوں نےکہا تحقیق میں موبائل فون کےاستعمال اور کینسرمیں تعلق ایک متنازعہ اور انتہائی نازک سیاسی معاملہ ہے۔ اس کے موبائل فون انڈسٹری پر اہم معاشی اثرات پڑیں گے۔

موسکووٹز نے کہا کہ سیل فون کا استعمال لوگوں کی صحت کے مسائل کو واضح کرتا ہے لیکن سائنٹفک کمیونیٹی کی جانب سے اس معاملے پر کم توجہ دی گئی ہے۔

تاہم امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ محققین کی جانب سے کیے جانے والے موبائل کی شعاؤں اور کینسر میں تعلق کے ان دعووں میں کوئی ربط اور ان کا کوئی معتبر سائنسی ثبوت نہیں ہے۔