Aaj TV News

BR100 4,764 Decreased By ▼ -94 (-1.94%)
BR30 23,100 Decreased By ▼ -765 (-3.21%)
KSE100 45,206 Decreased By ▼ -802 (-1.74%)
KSE30 17,884 Decreased By ▼ -295 (-1.62%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,230,238 2,333
DEATHS 27,374 47
Sindh 452,267 Cases
Punjab 424,701 Cases
Balochistan 32,796 Cases
Islamabad 104,472 Cases
KP 171,874 Cases

طالبان رہنما ملا برادر کے پاکستانی پاسپورٹ کی ایک مبینہ تصویر سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طالبان شریک بانی ملا برادر کی ممکنہ قیادت میں اپنی نئی حکومت کا اعلان کرنے والے تھے۔

تاہم، یہ تصویر جعلی ہے، سوشل میڈیا پر اسی پاسپورٹ کے سیریل نمبرز والی اصل تصویر جاری کی گئی ہے۔

افغانستان کے خاما پریس کی ایک پرانی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نہ صرف پاسپورٹ بلکہ ملا برادر کے پاس پاکستان کا قومی شناختی کارڈ بھی ہے۔ افغانستان کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے ایک سابق اہلکار نے مبینہ طور پر تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے یہ دستاویزات ملا برادر کو محمد عارف آغا کے جعلی نام سے جاری کی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دستاویزات مبینہ طور پر ملا برادر کو 7 جولائی 2014 کو پاکستان کے شہر کراچی میں جاری کی گئیں۔

اس وقت ملا برادر 2010 میں آئی ایس آئی کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد پاکستان میں تھے۔

پرانی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ طالبان نے دعوے کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ملا برادر اور محمد عارف آغا ایک جیسے لوگ نہیں ہیں اور پاسپورٹ پر موجود تصویر جو کہ اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے ، برادر کے ساتھ مماثل نہیں ہے۔

طالبان کے سابق سربراہ ملا اختر منصور کے پاس بھی مبینہ طور پر پاکستانی پاسپورٹ تھا جو 2006 میں انکے قتل ہونے کے بعد برآمد ہوا تھا۔

اب جب ملا برادر غنی کو طالبان کی حکومت کا سربراہ سمجھا جاتا ہے ، یہ پرانی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے کہ ان دعوؤں کے ساتھ کہ طالبان پاکستان کے کنٹرول میں ہیں۔

سوشل میڈیا پر پاسپورٹ کی تصویر سامنے آنے کے بعد عوام کی جانب سے مکٹلف تبصروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

برہان پشتین لکھتے ہیں،'یہ واقعی پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے کہ ہمارا ایک پرامن شہری پاکستان کی شہریت برقرار رکھتے ہوئےکسی دوسرے ملک کا صدر بن سکتا ہے ۔'