Aaj News

بدھ, مئ 29, 2024  
20 Dhul-Qadah 1445  

برطانیہ میں مردہ پائی گئی سارہ شریف کے 2 چچا تفتیش کے بعد رہا

سارہ کا والد ملزم عرفان شریف فیملی کے ہمراہ پاکستان پہنچ کر روپوش ہے
اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2023 05:16pm

برطانیہ میں قتل ہونے والی 10 سالہ بچی سارہ شریف کا والد تاحال روپوش ہے، جہلم پولیس نے اعلی حکام کی ہدایت پر ملک عرفان کے بھائیوں ملک عمران اور ظریف کو حراست میں لے کر تفتیش کی۔

غیر قانونی گرفتاری کے خلاف حراست میں لیے گئے افراد نے راجہ حق نواز ایڈووکیٹ کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر رکھی ہے، جس میں جسٹس صداقت علی خان نے کل ڈی پی او جہلم کو طلب کر رکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے حراست میں لیے گئے دونوں بھائیوں کو اس گارنٹی کی بناء پر رہا کردیا ہے کہ وہ رٹ پٹیشن واپس لے لیں گے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ معاملات طے ہونے کے بعد کل رٹ پٹیشن واپس لے لی جائے گی۔

برطانیہ میں قتل سارہ شریف کے 2 چچا گرفتار، ’موت گردن کی ہڈی ٹوٹنے سے ہوئی‘

برطانیہ میں سرے کے علاقے میں قتل ہونے والی 10 سالہ بچی سارہ شریف کے پاکستان میں حراست میں لیے جانےوالے چچا نے پولیس کو بتایا ہے کہ سارہ سیڑھیوں سے نیچے گری تھی جس کے نتیجے میں اس کی گردن ٹوٹ گئی۔ جہلم نے بچی کے والد اور کیس کے مرکزی ملزم ملک عرفان کے 2 بھائیوں کو حراست میں لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تھانہ صدر پولیس نے ملک عرفان کے دو بھائیوں عمران اور ظریف کو حراست میں لیا جس پران کے اہل خانہ نے ہائیکورٹ میں غیر قانونی گرفتاری کے خلاف رٹ دائر کردی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی بیلف نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر حراست میں لیے گئے افراد کی بازیابی کے لیے چھاپہ مارا۔ اہل خانہ کی ضمانت پر ملزم کے دونوں بھائیوں کو رہا کردیا جائے گا۔

پولیس کو سارہ کی لاش10 اگست کو گھر سے ملی تھی اور اُس نے تصدیق کی تھی کہ خاندان کے تین افراد لاش ملنے سے ایک دن پہلے پاکستان فرار ہو گئے تھے۔

سارہ شریف کے والد، سوتیلی والدہ اور بہن بھائی پاکستان پہنچ کر روپوش ہوچکے ہیں۔ ذرائع کے طابق دس سالہ سارہ شریف کو اس کے والد نے ہی قتل کیا جس کی تلاش میں برطانیہ کی ایجنسیز پاکستان کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔

پولیس کو سارہ کے 41 سالہ والد نے فون کیا، جو اپنی 29 سالہ اہلیہ بینش بتول اور اپنے 28 سالہ بھائی فیصل مالی کے ساتھ برطانیہ میں پوچھ گچھ کرنے سے پہلے اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔

یہ فون اسلام آباد پہنچنے کے بعد رات 2 بج کر 50 منٹ پر کیا گیا تھا جہاں ایک سے 13 سال کی عمر کے پانچ بچے ان کے ہمراہ تھے۔ سارہ چھ بہن بھائیوں میں سے ایک تھی۔

برطانوی پولیس نے قتل کی پوچھ تاچھ کےلئے مطلوب بچی کے باپ عرفان شریف، سوتیلی ماں بینش بتول اور چچا فیصل ملک کی تصآویربھی جاری کی ہیں۔

بچی کے چچا عمران شریف پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی لیکن خیال کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی تلاش میں مدد کر رہے ہیں۔

اسکائی نیوز کے مطابق عمران شریف کا دعویٰ ہے کہ سارہ کا انتقال گھر پر پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں ہوا۔

اس نے مبینہ طور پر پولیس افسران کو بتایاکہ، ’بینش بچوں کے ساتھ گھر پرتھی کہ سارہ سیڑھیوں سے نیچے گر گئی اور اس کی گردن ٹوٹ گئی۔ بینش گھبرا گئی اور اس نے عرفان کو فون کیا‘۔

سرے پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا ہے کہ سارہ کو ’متعدد اور شدید چوٹیں ’ آئی ہیں، اور یہ سب ممکنہ طور پر مسلسل اور طویل عرصے سے ہورہا تھا۔

بچی کی موت کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے، فی الحال اس بات کو ثابت کرنے کیلئے مزید ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

جہلم پولیس کا کہنا ہے کہ عمران شریف نے عرفان اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے مبینہ طور پر افسران کو بتایا، ’مجھے بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے علم ہوا کہ سارہ کے ساتھ کیا ہوا۔ میرے والدین نے مجھے بتایا کہ عرفان تھوڑی دیر کے لیے بہت پریشان ہوکر گھر آیا تھا۔ وہ کہتا رہا کہ ’وہ‘ اس کے بچوں کو اس سے دور لے جائیں گے‘۔

مزید پڑھیں

برطانیہ میں قتل سارہ شریف کا والد، سوتیلی ماں اور بہن بھائی پاکستان میں روپوش

برطانیہ میں پولش ماں اور پاکستانی باپ کی 10 سالہ بیٹی قتل، 3 مطلوب افراد ملک سے فرار

برطانوی تاریخ کے سب سے بڑے ’سیریل چائلڈ کلر‘ کیس کا فیصلہ آگیا

پولیس کے مطابق انہوں نے عرفان کے بھائی کو حراست میں لیا ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے بھائی کا خاندان کہاں چھپا ہوا ہے۔

میرپور میں بینش بتول کے خاندانی گھر کی بھی تلاشی لی گئی لیکن اہل خانہ کا کوئی پتہ نہیں چلا۔

England

Crime

child killing