Aaj News

ہفتہ, اپريل 13, 2024  
04 Shawwal 1445  

آوارہ کتوں کے کاٹنے سے ہونے والی جان لیوا ’ریبیز‘ کی علامات کیا ہیں

ریبیز کے مریض خصوصاً ایشیا اور افریقہ میں پائے جاتے ہیں
شائع 21 ستمبر 2023 12:13pm
ڈبلیو ایچ او
ڈبلیو ایچ او

دنیا بھر کے 150 سے زیادہ ممالک میں کتوں کے کاٹنے کے وجہ سے ہزاروں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

کتوں کے کاٹنے کی بیماری“ ریبیز“ دراصل ایک ویکسین کے ذریعہ روکی جانے والی وائرل بیماری ہے جس کے زیادہ تر مریض خاص طور پر ایشیا اور افریقہ میں ملتے ہیں ، ان میں 40 فیصد 15 سال سے کم عمر کے بچے ہوتے ہیں ۔

ریبیز دراصل ایک زونوٹک، وائرل بیماری ہے جو مرکزی اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے. ایک بار کلینیکل علامات ظاہر ہونے کے بعد ، ریبیز تقریبا 100فیصد مہلک ہوتا ہے۔

زیادہ تر گلیوں میں آوارہ گھومنے والے کتے ریبیز وائرس کی منتقلی کے ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن اسکے باوجود ، ریبیز گھریلو(پالتو) اور جنگلی جانوروں دونوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

ریبیز کی اقسام:

شدید ریبیز کے نتیجے میں ہائپر ایکٹیویٹی، اشتعال انگیز طرز عمل، ہیلوسینیشن، کوآرڈینیشن کی کمی، ہائیڈرو فوبیا (پانی کا خوف) اور ایروفوبیا (ڈرافٹ یا تازہ ہوا کا خوف) پیدا ہوتا ہے۔

فالج زدہ ریبیز انسانی کیسز کی کل تعداد کا تقریبا 20 فیصد ہے۔ اس میں عضلات آہستہ آہستہ مفلوج ہوتے جاتے ہیں جو کہ زخم کی جگہ سے شروع ہوتے ہیں ۔ پھرآہستہ آہستہ مریض کوما میں چلا جاتا ہے اور آخر کار موت واقع ہوتی ہے۔

ریبیز کی یہ قسم بعض دفعہ غلط تشخیص کی صورت میں ہوتی ہے۔

ریبیز وائرس کیسے منتقل ہوتا ہے؟

ریبیز کا وائرس دراصل کتے کے تھوک ( سلائیوا) میں ہوتا ہے اور یہ لوگوں میں اس کے کاٹنے، خراشوں یا میوکوسا (جیسے آنکھیں ، منہ یا کھلے زخموں) کے ساتھ براہ راست رابطہ سے جسم میں منتقل ہوجاتا ہے ۔

ریبیز کی علامات:

ریبیز کی پہلی علامات فلو سے ملتی جلتی ہوسکتی ہیں

کمزوری یا تکلیف ، بخار یا سر درد۔

کاٹنے کی جگہ پر تکلیف ، چبھن ، یا خارش کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔

یہ علامات کئی دنوں تک رہ سکتی ہیں اورمستقل رہنے کی صورت میں دماغی خرابی، اضطراب اور الجھن میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

Rabies

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div