Aaj News

جمعرات, جون 20, 2024  
13 Dhul-Hijjah 1445  

اسموگ: لاہور ہائیکورٹ کا ڈی سیل ہونے والی 84 فیکٹریوں کو دوبارہ سیل کرنے کا حکم

عدالت کا فیکٹریاں ڈی سیل کرنے والے تمام افسران کیخلاف کارروائی کا عندیہ
شائع 22 نومبر 2023 05:15pm

لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ تدارک کے لیے عدالتی حکم کے خلاف ڈی سیل ہونے والی 84 فیکٹریوں کو دوبارہ سیل کرنے کا حکم دے دیا جبکہ عدالت نے فیکٹریاں ڈی سیل کرنے والے تمام افسران کے خلاف کارروائی کا عندیہ بھی دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

ایل ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 84 فیکٹریاں عدالتی حکم پر سیل کی گئیں جنہیں ماحولیات ٹریبونل نے ڈی سیل کر دیا، ضلع ننکانہ میں فصلوں کی باقیات جلانے پر ذمہ دار افسروں کو معطل کر دیا گیا۔

جسٹس شاہد کریم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ ڈی سیل ہونے والی تمام فیکٹریاں دوبارہ سیل کی جائیں، مجھے ماحولیات ٹریبونل کا آڈر دکھائیں؟ ٹریبونل نے کیسے فیکٹریاں ڈی سیل کر دیں؟ جتنے افسروں نے ڈی سیل کیا ہے ان کے نام مجھے بتائے جائیں، فیکٹریوں کو ڈی سیل کرنے والے افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی افسر نے اس عدالت کے علاوہ کسی کا حکم مانا تو اس کو معطل کر دوں گا، میرا حکم ہے کہ اگر عدالت کے حکم پر کوئی چیز سیل ہوتی ہے، تو اسے کسی دوسرے آڈر سے ڈی سیل نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں

لاہور ہائیکورٹ کا آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو سیل کرنے کا حکم

لاہور میں 12 اسموگ ٹاور لگانے کا اعلان، شہری صرف الیکٹرک بائیک خرید سکیں گے

لاہور میں مصنوعی بارش کیسے برسائی جا سکتی ہے اور کیا یہ ممکن ہے؟

مختلف محکموں نے عدالتی حکم پر کارکردگی رپورٹس عدالت میں پیش کیں۔ بعدازاں عدالت عالیہ نے کیس کی سماعت 24 نومبر تک ملتوی کر دی۔

Lahore High Court

smog

smog emergency

justice shahid kareem malik

lahore smog condition

punjab smog