سورج میں 75000 میل چوڑا سوراخ، زمین کیلئے خطرناک نتائج کا اندیشہ
-Marie Claireسورج ہماری زمین پر زندگی کی بنیادی وجہ ہے لیکن اب سائنسدانوں نے سورج کی سطح پر ایک ایسی چیز دیکھ لی ہے کہ زندگی کی یہ وجہ ہی تباہی کا سبب بننے جا رہی ہے۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سورج کی سطح پر ایک طویل و عریض سوراخ دیکھا ہے جو ہماری زمین کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سوراخ کو سائنسدانوں نے ”اے آر2665“ کا نام دیا ہے جو 74ہزار 560میل (1لاکھ 20ہزار کلومیٹر) چوڑا ہے۔ سوراخ کا اتنا بڑا سائز ہونے کی وجہ سے یہ آسانی کے ساتھ زمین سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ ”سورج کی سطح پر ایک جگہ، ایک ساتھ کئی سوراخ ہیں جن میں ایک بہت بڑا ہے اور اس کے سائز میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔اس کا سائز اس قدر بڑا ہے کہ یہ انتہائی خطرناک شمسی تابکاری طوفانوں کا سبب بن سکتا ہے جو ہماری سیٹلائٹس اورہر طرح کی کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کو تباہ و برباد کردے گا اور اس صورت ہماری زمین کا تمام تر مواصلاتی نظام ختم ہو جائے گا اور ہمیں اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔“سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”یہ شمسی تابکاری ہوائیں زمین کے مقناطیسی فیلڈ کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں جس سے ہوائی جہازوں کا پرواز کرنا بھی ناممکن ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ ہمارے بجلی گھروں کو بھی ناکارہ بنا سکتی ہیں۔“
سائنسدانوں کے مطابق سورج کی سطح کے جو حصے نسبتاً سرد ہوتے ہیں وہاں سورج کے مقناطیسی فیلڈ کے تعامل سے یہ سوراخ بنتے ہیں۔ سورج کی سطح کے یہ ایسے خطے ہوتے ہیں جہاں مقناطیسیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جب اس تعامل کے نتیجے میں یہ سوراخ بنتے ہیں توسورج کی سطح سے آنے والی تابکاری لہروں میں بے تحاشا اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ طوفانوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، جو ہماری زمین کے مقناطیسی مدار سے ٹکرا کر تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔
بشکریہ دی انڈیپینڈنٹ

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔