ٹرمپ اپنی سالگرہ پر ذاتی تشہیر چاہتے ہیں، اتوار کو امن معاہدے پر کوئی دستخط نہیں ہو رہے: پاسدارانِ انقلاب
ایران اور امریکا کے درمیان ایک بڑے امن معاہدے کو لے کر الگ الگ باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں پکا دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہمارا امن معاہدہ ہونے جا رہا ہے اور یہ معاہدہ اتوار کو ہی طے پا جائے گا۔ تو دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اتوار کو ڈیل پر دستخط ہوتے ہی سمندر کا وہ اہم راستہ یعنی آبنائے ہرمز فوری طور پر سب کے لیے کھول دیا جائے گا جو طویل عرصے سے بند ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مناسب وقت پر جب سب خاموشی ہوگی تو ہم خود جا کر وہ نیوکلیر ڈسٹ یعنی جوہری مواد لے آئیں گے جو اس وقت گرینائٹ کے مضبوط پہاڑوں کے نیچے دفن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے اچھے مستقبل کے لیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ یہ کام جلد اور آسانی سے پورا ہو جائے گا، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہمارے پاس اس کا متبادل راستہ بھی موجود ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ سابق صدر اوباما کے دور میں ہونے والے معاہدے سے بالکل مختلف ہوگا اور نیوکلیر ہتھیاروں کے خلاف ایک پکی دیوار ثابت ہوگا کیونکہ اوباما کے معاہدے کے برعکس اس بار کسی بھی قسم کی رقم یا پیسے کا لین دین نہیں ہوگا۔
دوسری طرف ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو رد کر دیا ہے اور ایرانی فورس پاسدارانِ انقلاب نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ان کا غیر معمولی اصرار قرار دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹیلی گرام‘ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ چونکہ چودہ جون کو صدر ٹرمپ کی سالگرہ ہے، اس لیے وہ اس تاریخ پر معاہدے کا شور مچا کر اپنی ذاتی تشہیر کرنا چاہتے ہیں۔
ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو معاہدے پر کوئی دستخط نہیں ہو رہے ہیں اور دستخط کرنے کی یہ جو تاریخیں دی جا رہی ہیں، یہ ہماری مذاکراتی ٹیم کے لیے ایک امتحان یا آزمائش کی طرح ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ ایران پہلے ہی یہ بتا چکا ہے کہ ابھی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔
تاہم، ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے یہ امید بھی دلائی کہ دونوں فریقین اس وقت معاہدے کے بہت زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن دستخط کرنے کے لیے فی الحال ہمارا کہیں جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور جنیوا یا کسی اور ملک کے سفر کا کوئی پروگرام طے نہیں ہوا ہے، اس لیے اسلام آباد میمورنڈم پر دستخط کے لیے ابھی سب کو انتظار کرنا ہوگا۔
دوسری جانب اتوار کے روز کے لیے امریکی صدر کا جو سرکاری شیڈول یا دفتری مصروفیات کی لسٹ جاری کی گئی ہے، اس میں ایسی کسی بھی الیکٹرانک دستخط کی تقریب کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شیڈول میں آخری وقت پر بھی تقریب کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
اس دوران پاکستان کی طرف سے بھی اس معاہدے کے حوالے سے بڑی کوششیں دیکھنے میں آئی ہیں اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ بالکل تیار ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے فون پر تفصیلی بات چیت کی ہے جس میں انہوں نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان انٹرنیٹ کے ذریعے یعنی الیکٹرانک دستخط ہونے جا رہے ہیں۔
اس گفتگو میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس معاہدے سے خطے میں ہمیشہ کے لیے امن قائم ہو جائے گا، اور ساتھ ہی انہوں نے اس امن کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان کی دن رات کی محنت اور کوششوں کی دل کھول کر تعریف بھی کی۔
اس کے علاوہ یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ اس معاہدے کے سلسلے میں پاکستان پہنچ رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ان کوششوں کی تصدیق کی ہے اور سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر اس امن معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کا پورا امکان ہے اور پاکستان اس امن معاہدے کو پورا کرانے کے لیے بہت سرگرمی سے کام کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ الیکٹرانک دستخط کی تمام تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں اور جیسے ہی حتمی منظوری ملے گی، فوراً ہی امن معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے جس کے بعد اگلے ہفتے دونوں ملکوں کے درمیان تکنیکی سطح کے معاملات پر بات چیت ہوگی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کی اس مثبت سفارتی کوشش کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس پورے امن عمل میں علاقے کے دیگر ممالک کی حمایت بہت اہم ثابت ہوئی ہے کیونکہ یہ مجوزہ معاہدہ خطے میں امن، خوشحالی اور تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا اور مستقبل میں پائیدار امن کی ایک مضبوط بنیاد بنے گا۔














