پشاور ہائیکورٹ نے 'قائد اعظم' کو ملک بدر کرنے سے روک دیا، شناختی کارڈ کی تصدیق کا حکم

درخواست گزار قائد اعظم کے وکیل سیف اللہ محب کاکا خیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل پاکستان اور دبئی میں کاروبار کرتا ہے۔
شائع 29 جولائ 2026 11:25am

پشاور ہائیکورٹ نے شناختی کارڈ بلاک ہونے اور ممکنہ ملک بدری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ’قائد اعظم‘ نامی درخواست گزار کو ملک بدر کرنے سے روک دیا ہے اور اسے نادرا کے تصدیقی بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پیر کو اس کیس کی سماعت کی جہاں درخواست گزار کے وکلاء اور نادرا کے قانونی نمائندے نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار قائد اعظم کے وکیل سیف اللہ محب کاکا خیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل پاکستان اور دبئی میں کاروبار کرتا ہے۔

انہوں نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ ”ان کا موکل ایک پاکستانی شہری ہے جو باقاعدہ کاروبار کر رہا ہے اور حکومت کو ٹیکس ادا کرتا ہے“۔

وکیل صفائی نے مزید کہا کہ ”شناختی کارڈ بلاک ہونے کی وجہ سے ان کے موکل کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اسے ایک قسم کی سزا دی جا رہی ہے“۔

انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نادرا کی جانب سے اب درخواست گزار کو اپنے چچا کو پیش کرنے کا کہا جا رہا ہے، جبکہ ان کے خاندان کے دیگر تمام افراد کے پاس پہلے سے پاکستانی شناختی کارڈ موجود ہیں۔

دوسری جانب نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل شاہد عمران گیگیانی نے عدالت میں اتھارٹی کی نمائندگی کی اور بینچ کو بتایا کہ ”نادرا نے اس معاملے پر اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے“۔

انہوں نے نادرا کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”درخواست گزار کا شناختی کارڈ مشکوک قرار دیا گیا تھا جس کی بنیاد پر اسے بلاک کیا گیا ہے“۔

عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد نادرا کو ہدایت کی کہ وہ درخواست گزار کے کیس کا جائزہ لے اور قائد اعظم کو نادرا کے بورڈ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا، جبکہ بورڈ کے فیصلے تک حکام کو انہیں کسی بھی قسم کی ملک بدری یا زبردستی کارروائی سے روک دیا ہے۔