یہ تنخواہ دار طبقے، عوام اور مزدور کا بجٹ ہے: وزیرِ مملکت برائے خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ بجٹ 27-2026 تنخواہ دار طبقے، عوام اور مزدور کا بجٹ ہے، اس بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا ترجیح تھی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو اسلام آباد میں دیگر وزراء کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے نئے بجٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ملک کی معاشی صورتحال پر روشنی ڈالی۔
وزیر خزانہ نے عوام کو امید دلاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال میں نے کہا تھا ہماری معیشت درست سمت میں جا رہی ہے اور اب بجٹ میں ہم نے معیشت کے جس سفر کی بات کی تھی، اس میں واضح بہتری آ رہی ہے، ہم معاشی استحکام سے اب ترقی کی جانب بڑھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کی کوئی ایک آخری منزل نہیں ہوتی، لیکن ہم ترقی کی طرف چل پڑے ہیں اور جتنا ممکن ہو سکا ہم نے سرکاری فنڈز کی گنجائش کو عوامی فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔
بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم نے تنخواہ دار طبقے کے سب سے کم آمدنی والے لوگوں کو ریلیف دینے کی پوری کوشش کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں آئی ٹی کی برآمدات یعنی باہر کے ممالک کو بھیجی جانے والی سروسز ساڑھے چار ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی جبکہ نوجوانوں کو کاروبار کے لیے دو سو باسٹھ ارب روپے کے قرضے دیے جا رہے ہیں۔
زراعت کے شعبے کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے قرضے پندرہ فیصد اضافے کے ساتھ بیس کھرب روپے سے بڑھ گئے ہیں اور اس بجٹ میں زراعت کے لیے ایک سو پچیس ارب روپے الگ رکھے گئے ہیں جبکہ کاشتکاروں کی سہولت کے لیے زراعت سے متعلق آلات پر تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کو ختم کر کے صفر کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دکانداروں کے لیے ریٹیلر اسکیم بھی بجٹ میں پیش کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اپریل میں تیل کا درآمدی بل بہت زیادہ تھا لیکن مئی میں یہ کم ہو کر پچاس کروڑ تک رہ گیا ہے۔
سولر پینل کی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ کس نے کہا تھا کہ سولر کا ریٹ بڑھ رہا ہے، میں افواہوں سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا، سب ذرائع کو سچ کی طرف واپس جانا چاہیئے اور احتساب کرنا چاہیئے۔
بڑے شہروں میں مکانات کے لیے قرضے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بڑے شہروں کے لیے ایک کروڑ روپے کا قرضہ شاید کم مالیت ہو، اس لیے اب ہمیں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ یعنی حکومت اور نجی اداروں کے اشتراک کی جانب بڑھنا ہوگا، حکومت سندھ نے یہ کام کر کے دکھایا ہے اور اب نجی شعبے کو آگے بڑھانا ہوگا۔
پیٹرول کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد کو بڑھایا نہیں گیا، ہم پیٹرول اور ڈیزل پر صرف لیوی میں ردوبدل کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ساڑھے چار فیصد پر فنانسنگ کو ممکن بنانے پر وہ گورنر اسٹیٹ بینک کے دل سے شکر گزار ہیں۔
پریس کانفرنس میں موجود وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بجٹ کو ہر طبقے کے لیے بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنخواہ دار طبقے کا بجٹ ہے، یہ عوامی بجٹ ہے، مزدور کا بجٹ ہے اور مال باہر بھیجنے والے برآمد کنندگان سمیت تمام سیکٹرز کا بجٹ ہے۔
انہوں نے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ٹیکس کا بوجھ صرف چند لوگوں کے کاندھوں پر اٹھایا ہوا تھا، اس لیے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا ہماری اولین ترجیح تھی اور اس سلسلے میں وزیراعظم نے تاجروں کے چیمبرز کے ساتھ تفصیلی نشست بھی کی ہے، اس بجٹ سے ملک میں روزگار، صنعت اور برآمدات کو بڑا فروغ ملے گا۔
ٹیکس کی تفصیلات آسان الفاظ میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سال بھی ہم نے مختلف سلیبس یعنی گروپس میں ٹیکس کی شرح کو کم کیا ہے، جس کے تحت اب ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر صرف پانچ سو روپے ٹیکس ہے جبکہ دو لاکھ روپے ماہانہ کمانے والوں پر ٹیکس ساڑھے تیرہ ہزار روپے ہے۔
انہوں نے ہاؤسنگ اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے مزید بتایا کہ غریبوں کے گھروں کے لیے ہاؤسنگ اسکیم پر اب تک گیارہ ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں اور اس نئے بجٹ میں ہاؤسنگ اسکیم کے لیے اکہتر ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے حکومت کی معاشی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں اتنی بڑی اصلاحات کبھی نہیں ہوئیں، ایف بی آر یعنی ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کا تمام اسٹرکچر اب ہر قسم کی سفارش سے بالکل پاک ہے اور اس میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ تنکا تنکا جوڑ کر بجٹ میں یہ گنجائش پیدا کی گئی ہے اور بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا گیا ہے کیونکہ وزیراعظم عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر دم تیار رہتے ہیں اور ہماری معاشی ٹیم نے اس عوام دوست بجٹ کو بنانے کے لیے بہت زیادہ محنت کی ہے۔
وزیر اطلاعات نے معیشت پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ جب کسی برآمد کنندہ کا منافع بڑھتا ہے تو وہ نئی انڈسٹری لگاتا ہے اور یہ ایکسپورٹ یعنی باہر مال بیچنے کا ماڈل پوری معیشت پر اچھے اثرات ڈالتا ہے۔
انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ہاؤسنگ اسکیم کی بدولت اب ایک عام ڈرائیور اور مزدور کو بھی اپنا گھر بنانے کے لیے قرضہ ملا ہے جو ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔














