نئی رپورٹ سے واضح ہو جائے گا کہ زخم میر رضا نے خود لگایا یا تشدد ہوا: وکیل

میڈیکل بورڈ کی ابتدائی رپورٹ آج شام چھ بجے تک متوقع ہے: والد میر رضا
اپ ڈیٹ 08 اگست 2026 03:23pm

میر رضا علی ہلاکت کیس کی پیروی کرنے والے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ لاش سے نمونے لے لیے گئے ہیں، ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نمونوں کی جانچ میں میر رضا کا قتل ثابت ہوا تو آئی جی دو دن میں کیس حل ہونے والے بیان پر قائم رہیں۔

قبر کشائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل جبران ناصر نے پولیس کی کارکردگی اور تفتیش کے طریقے پر سنگین سوالات اٹھائے۔

جبران ناصر نے انکشاف کیا کہ پچھلے دس دنوں سے میر رضا کی کوئی آڈیو سامنے نہیں آئی تھی، لیکن کل اچانک پولیس نے میڈیا پر میر رضا کی ایک آڈیو چلوا دی۔

انہوں نے پولیس کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس صرف بیان بازی کے علاوہ کچھ نہ کر سکی اور وہ مقتول کے والدین کے ساتھ معلومات شیئر کرنے کے بجائے تمام تفتیش میڈیا پر شیئر کر رہی ہے۔

وکیل نے واضح کیا کہ پہلے بورڈ میں شامل ڈاکٹرز کے نام انہوں نے یا خاندان نے نہیں دیے تھے، بلکہ یہ انتظامیہ کا اپنا فیصلہ تھا۔

انہوں نے عدلیہ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک جوڈیشل افسر اور مجسٹریٹ کی فعال موجودگی کی وجہ سے ہی یہ انکوائری صرف دو روز میں مکمل ہو سکی ہے۔

جبران ناصر نے میڈیا کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد جو بھی حتمی رپورٹ آئے گی، اس سے سب کچھ دنیا کے سامنے صاف ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ قتل کا تھا یا خودکشی کا، اس کا پتا شام چھ بجے تک نمونوں کی ابتدائی جانچ کے بعد چل جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کی ابتدائی رپورٹ آج شام تک جاری ہونے کا امکان ہے، جبکہ حتمی اور مکمل رپورٹ کیمیکل ایگزامینیشن یعنی کیمیائی تجزیے کے بعد مرتب کی جائے گی۔

وکیل نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ سے واضح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ جسم پر موجود زخم خود لگایا گیا تھا یا مقتول پر تشدد کیا گیا تھا، اور اگر یہ قتل ثابت ہوتا ہے تو رپورٹ کی مدد سے تشدد کی اصل نوعیت اور اس میں ملوث ممکنہ ملزمان کی تعداد کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکے گا۔

ان کا ماننا ہے کہ سائنسی حقائق سامنے آنے کے بعد کیس سے جڑی تمام افواہوں اور قیاس آرائیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔

انہوں نے آئی جی سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ قتل ثابت ہوا تو پھر آئی جی صاحب نے دو دن میں کیس حل کرنے کا جو دعویٰ کیا تھا، وہ اس پر قائم رہیں۔

دوسری جانب میر رضا کے والد میر حسین نے بھی اس اہم مرحلے کے مکمل ہونے پر میڈیا سے بات چیت کی۔

انہوں نے بتایا کہ میڈیکل بورڈ کی ابتدائی رپورٹ آج شام چھ بجے تک متوقع ہے اور اس رپورٹ کے آتے ہی تمام اصل حقائق عوام کے سامنے واضح ہو جائیں گے۔

انہوں نے کیس میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی دباؤ اور ہمدردی کی وجہ سے ہی اس کیس میں یہ پیش رفت ممکن ہو سکی ہے، ورنہ تفتیش سست روی کا شکار تھی۔

مقتول کے والد نے دوبارہ معائنہ کرنے والی ڈاکٹرز کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کی ٹیم نے اپنی ذمہ داریاں انتہائی احسن طریقے سے مکمل کی ہیں اور انہوں نے میڈیکل بورڈ کی کارروائی اور ممکنہ رپورٹ پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

میڈیا کی جانب سے جب میر رضا کے والد سے گزشتہ روز وائرل ہونے والے مبینہ آڈیو پیغام سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے صاف گریز کیا۔

ان کا مؤقف تھا کہ جب تک اس آڈیو کی باقاعدہ فارنزک تصدیق سامنے نہیں آ جاتی، وہ اس پر کسی قسم کی رائے نہیں دے سکتے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایک حساس قانونی معاملے میں کسی بھی غیر مصدقہ آڈیو پر بات کرنا بالکل مناسب نہیں ہے۔

واضح رہے کہ میر رضا علی کی موت کے اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے عدالتی نگرانی میں قبر کشائی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس انتہائی حساس کارروائی کے دوران میڈیکل بورڈ نے میر رضا کے جسم سے مختلف اعضا کے نمونے حاصل کیے، جس کے بعد لاش کو دوبارہ احترام کے ساتھ تدفین کر دیا گیا۔

اس اہم کارروائی کے بعد میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر نسیم احمد نے میڈیا کو بتایا کہ بورڈ نے اپنا تفویض کردہ ٹاسک مکمل کر لیا ہے اور وہ بہت جلد اس معائنے کی تفصیلی رپورٹ متعلقہ حکام کو ارسال کر دیں گے۔

اس کارروائی کے لیے فیروز آباد تھانے کی حدود میں واقع رحمانیہ مسجد سے متصل قبرستان میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود تھی۔ اس پورے عمل کے دوران سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی ایسٹ اور کیس کے تفتیشی افسر بھی موقع پر موجود تھے۔

اس سے قبل، مقتول کے خاندان کے شدید احتجاج اور تحفظات کے بعد انتظامیہ نے راتوں رات بدلا گیا پانچ رکنی بورڈ منسوخ کر کے سابقہ آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کو دوبارہ بحال کر دیا تھا۔ اس بحال شدہ بورڈ کی سربراہی ڈاکٹر سمعیہ سید کر رہی ہیں، جنہوں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں چودہ بڑی خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔

اس بورڈ میں ڈاؤ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد، ڈاکٹر فرح وسیم، سی پی ایل سی کے عامر حسن خان، اور ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر سری چند اور ڈاکٹر دانیال مرزا شامل ہیں۔

اس سے قبل جب بورڈ تبدیل کیا گیا تھا تو میر رضا کے والد نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ پچھلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو کہاں غائب کر دیا گیا اور کس کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی میں ماہر ڈاکٹر موجود ہیں تو دوسرے علاقوں سے لوگ لانے کی کیا ضرورت تھی۔

قبر کشائی کے بعد حاصل کیے گئے تمام نمونے، جن میں بال، ناخن، ہڈیاں، دانت اور ٹشوز شامل ہیں، فرانزک لیبارٹری منتقل کر دیے گئے ہیں۔ ان نمونوں کی مدد سے زہر، ادویات، گن پاؤڈر، پرانی چوٹوں اور گولی لگنے کے زاویے کا سائنسی تجزیہ کیا جائے گا تاکہ پہلی رپورٹ کے تضادات کو دور کیا جا سکے۔ اب سب کی نظریں فرانزک رپورٹ پر لگی ہیں جس سے میر رضا کی موت کی اصل وجہ کا تعین ہوگا۔