لاہور میں زیرِ حراست دو خواتین ہلاک، واقعے کی انکوائری شروع

دونوں خواتین منشیات کی عادی تھیں، نشہ نہ ملنے پر طبیعت بگڑی، پولیس کا دعویٰ
اپ ڈیٹ 05 اگست 2026 01:00pm

لاہور میں زیرِ حراست دو خواتین کی پراسرار ہلاکت کے واقعے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین کی حالت حراست کے دوران اچانک خراب ہوئی، جبکہ واقعے کی اصل وجوہات پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آسکیں گی۔

ٹاؤن شپ پولیس کی تحویل میں موجود دو خواتین ملزمان دورانِ منتقلی طبیعت خراب ہونے پر ہلاک ہو گئیں۔ پولیس نے واقعے کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور میرٹ پر انکوائری شروع کر دی ہے، جبکہ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئے گی۔

پولیس کے مطابق انمول اور آمنہ نامی دونوں خواتین کو مبینہ چوری اور فراڈ کے الزام میں شہریوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ بعد ازاں ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مزید قانونی کارروائی کے لیے دونوں خواتین کو ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

پولیس کے مطابق دونوں خواتین ریکارڈ یافتہ تھیں اور ابتدائی معلومات کے مطابق بظاہر منشیات استعمال کرنے کی عادی بھی تھیں، تاہم ان کی موت کی حتمی وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

پولیس نے بتایا کہ دونوں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا شفاف، غیرجانبدارانہ اور میرٹ پر جائزہ لینے کے لیے انکوائری جاری ہے۔