پاکستان میں آج پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں

20 جولائی سے لے کر اب تک پیٹرول کی قیمت میں 5 بار کمی کی گئی اور 6 بار اضافہ کیا گیا، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں صرف 3 بار معمولی کمی کی گئی جبکہ 8 بار مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔
شائع 05 اگست 2026 08:15am

پاکستان میں آج پیٹرول 328 روپے 56 پیسے اور ڈیزل 385 روپے 86 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔

وفاقی حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی منظوری کے بعد 5 اگست کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 39 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 07 پیسے فی لیٹر کی ہے۔ 31 جولائی کو پیٹرول 12 پیسے اور ڈیزل 66 پیسے سستا کیا گیا تھا۔

اگر 20 جولائی سے لے کر اب تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے مجموعی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 5 بار کمی کی گئی اور 6 بار اضافہ کیا گیا، جبکہ ایک دن اس کی قیمت مستحکم رہی۔

اس کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اس پورے عرصے کے دوران صرف 3 بار معمولی کمی کی گئی جبکہ 8 بار اس کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔

تاریخی ترتیب کے مطابق 20 جولائی کو پیٹرول 35 پیسے سستا ہوا تھا جبکہ ڈیزل 5 روپے 71 پیسے مہنگا کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد 21 جولائی سے 24 جولائی تک مسلسل چار دن دونوں ایندھنوں کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھائی گئیں۔ 25 جولائی کو قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہیں، جس کے بعد 27 جولائی کو پیٹرول 1 روپیہ سستا اور ڈیزل 3 روپے 37 پیسے مہنگا ہوا۔ پھر 28 جولائی کو دونوں کی قیمتیں بڑھیں، 29 جولائی کو پیٹرول 75 پیسے سستا مگر ڈیزل 2 روپے 24 پیسے مہنگا ہوا، اور 30 جولائی کو دونوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کی پالیسی کے حوالے سے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ”پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا، اور اوگرا روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرکے ویب سائٹ پر لگایا کرے گی“۔

حکومت کی جانب سے یہ وضاحت سامنے آئی ہے کہ ماضی میں بین الاقوامی منڈی کے نرخوں، ڈالر کی قدر اور ٹیکسوں کی شرح کا جائزہ ہر 15 روز بعد لیا جاتا تھا، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں، اسی لیے عوامی سہولت اور منڈی کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے یہ نیا روزانہ کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔