افغانستان میں طالبان کے خلاف نئے مسلح گروپ کے قیام کا اعلان
افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کے دائرے میں مزید وسعت آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شمالی صوبہ فریاب میں گل محمد پہلوان کی قیادت میں طالبان مخالف نئے مسلح گروپ ”جبۂ راہِ بخش لبریشن فرنٹ“ کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لبریشن فرنٹ آئندہ چند روز میں باضابطہ اعلامیہ جاری کرے گا، جس میں تنظیمی ڈھانچے، قیادت، مقاصد اور آئندہ کی سرگرمیوں کی تفصیلات پیش کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق پیر کے روز صوبہ فریاب میں طالبان پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری لبریشن فرنٹ کے جنگجوؤں نے قبول کی، جبکہ ضلع غورمچ میں بھی طالبان کے خلاف ایک اور حملے کی اطلاعات ہیں۔
اس کے علاوہ حالیہ ہفتوں کے دوران صوبہ بدخشان کے یفتل، زیبک اور ارگو اضلاع میں طالبان مخالف کارروائیاں رپورٹ ہوئیں، جبکہ بغلان کے ضلع دوشی میں طالبان کے ایک قافلے پر حملے اور بدخشان میں متعدد طالبان چوکیوں پر کارروائیوں کی ذمہ داری بھی مختلف مزاحمتی گروپ قبول کر چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حالیہ پیش رفت سے طالبان مخالف مزاحمتی دھڑوں کے دائرۂ کار میں وسعت اور مختلف گروپوں کے درمیان ممکنہ ہم آہنگی کی عکاسی ہوتی ہے۔
اس سے قبل افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ جنرل سمیع سادات طالبان حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا اعلان کر چکے ہیں، جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنرل یاسین ضیا بھی مزاحمتی کارروائیاں مزید تیز کرنے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق طالبان مخالف حلقوں کا مؤقف ہے کہ تعلیم، روزگار، انسانی حقوق پر عائد پابندیوں، مبینہ نسلی امتیاز اور بدعنوانی کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں مزاحمتی سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ افغان شہریوں کی یورپی ممالک کی جانب نقل مکانی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران طالبان نے 186 سابق افغان فوجی اہلکاروں کو قتل کیا، تاہم اس دعوے سمیت مذکورہ حملوں اور دیگر اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ طالبان حکومت کی جانب سے بھی ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔














