آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری

2 جولائی کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی 8 اور کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے۔
شائع 03 اگست 2026 08:13am

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، اب تک موصول ہونے والے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اپنے حریفوں پر واضح برتری حاصل ہو چکی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر موجود ہے۔

آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کُل 53 نشستوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے 33 نشستوں پر آزاد کشمیر کے اندر مقیم تقریباً ساڑھے 44 لاکھ مقامی شہری ووٹ ڈالتے ہیں۔ 8 نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور سمندر پار کشمیریوں کے لیے مخصوص کی گئی ہیں، جبکہ 12 نشستیں پاکستان کے مختلف شہروں جیسے کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور راولپنڈی وغیرہ میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے ہیں جہاں وہ اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

2 جولائی کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی 8 اور کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے۔

نتائج کا اعلان کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے بتایا کہ ان نشستوں پر مسلم لیگ (ن) 11 سیٹوں پر کامیاب رہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے حصے میں 4 سیٹیں آئی ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کے مطابق مسلم لیگ ن کی جانب سے راجا محمد فاروق، مصطفیٰ بشیر، یاسین لون، احمد رضا قادری، محمد عامر شاہ، احسن رضا، راجا محمد صدیق اور شوکت علی شاہ نے فتح حاصل کی ہے۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدواروں میں سید بازل علی، دیوان علی چغتائی، مجید خان اور مختار عباسی شامل ہیں۔

تاہم، آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں کچھ ایسے شہر بھی ہیں جہاں ووٹ ہی کاسٹ نہیں ہوا۔

شکار پور میں چار ووٹ کاسٹ ہونے تھے، لیکن ان میں سے ایک ووٹ بھی کاسٹ نہیں ہوا۔ دوسری جانب ڈیرہ غازی خان کے حلقے ایل اے 34 جموں کے ایک پولنگ اسٹیشن معموری میں ایک خاتون کا ووٹ کاسٹ ہوا جو مسلم لیگ ن کے امیدوار ناصر ڈار نے حاصل کیا۔

چک جھمرہ میں ایل اے 34 کے پولنگ اسٹیشن پرکوئی بھی ووٹ کاسٹ نہ ہوسکا۔

پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی کُل 13 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 9 نشستوں پر شاندار کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ پیپلز پارٹی 4 نشستیں اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ اس انتخابی معرکے میں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کوئی بھی نشست حاصل نہیں کر سکی تھی۔

یوں اب تک کے مجموعی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی پیش قدمی برقرار ہے۔