آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: پیپلز پارٹی کا دھاندلی کا الزام، ن لیگ کی تردید
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے آزاد کشمیر الیکشن کے دوسرے مرحلے میں بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کا الزام عائد کردیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے الیکشن سیل نے الیکش کمیشن کو خط لکھا ہے، جس میں پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات کو مستر کرتے ہوئے شکایت کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اتوار کو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں انتخابات کو آزادانہ، منصفانہ اور شفاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کے بقول پہلے مرحلے کے انتخابات سے متعلق جمع کرائی گئی شکایات پر اب تک مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جس کے باعث دوسرے مرحلے کے انتخابی عمل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ابتدائی شکایات کا بروقت نوٹس لیا جاتا تو دوسرے مرحلے کے انتخابات پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکتا تھا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پارٹی نے دوسرے مرحلے کے دوران بھی مبینہ طور پر بیلٹ بکس بھرنے اور پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنوں سے نکالنے سے متعلق متعدد تحریری شکایات الیکشن کمیشن کو جمع کرا دی ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی احتجاج اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے تاہم امید ہے کہ الیکشن کمیشن شکایات کا فوری جائزہ لے کر شفاف اور منصفانہ انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل سے متعلق شکایات جمع کرادیں
پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پارٹی نے الیکشن کمیشن کو فوری کارروائی کے لیے 11 حلقوں سے متعلق اپنی 25 شکایات جمع کرائی ہیں تاہم اسے اب تک کسی شکایت پر باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی نے انتخابی عمل سے متعلق شکایات ثبوتوں کے ساتھ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کو جمع کرا دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ کئی حلقوں میں پولنگ عملہ اور انتخابی سامان بروقت نہیں پہنچ سکا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حلقہ ایل اے 27 میں دوپہر 12 بجے تک پولنگ عملہ اور انتخابی سامان نہیں پہنچا، جبکہ پولنگ عملہ اور مواد ایک روز پہلے متعلقہ پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچ جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایل اے 27 اور ایل اے 28 پیپلز پارٹی کے مضبوط حلقے ہیں، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف انہی حلقوں میں موسم خراب تھا یا صرف وہیں پولنگ سامان نہیں پہنچ سکا۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ جب ان کی جماعت کے پولنگ ایجنٹس پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچ سکتے ہیں تو پولنگ عملہ کیوں نہیں پہنچ سکا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکپتن کے ایک پولنگ اسٹیشن سے ان کے پولنگ ایجنٹس کو نکال دیا گیا، جبکہ منڈی بہاؤالدین کے ایک پولنگ اسٹیشن پر بھی مبینہ طور پر بد نظمی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر عوام ووٹ کے ذریعے کسی جماعت کو اقتدار دیتے ہیں تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم دھونس اور مبینہ دھاندلی کے ذریعے حاصل ہونے والے انتخابی نتائج کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار کا نشہ زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے الزام عائد کیا کہ ایک مخصوص جماعت کو اقتدار دلانے کے لیے دھاندلی کی جا رہی ہے اور پہلے مرحلے کے انتخابات میں بھی یہی طرزعمل اختیار کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق سرکاری مشینری کے استعمال کے باوجود عوام نے اس جماعت کو مسترد کیا۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے کردار کے بعد انتخابات کو شفاف قرار دینا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن ثابت کرے کہ انتخابی عمل آزادانہ اور شفاف ہے اور فوری طور پر ایسے اقدامات کرے جن سے شفاف انتخابات یقینی بنائے جا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورت حال میں پیپلز پارٹی کسی صورت انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ نہیں مان سکتی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت دیگر جماعتوں کی طرح فوری بائیکاٹ نہیں چاہتی، لیکن اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو تیسرے مرحلے میں بائیکاٹ کا آپشن بھی زیر غور آ سکتا ہے۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ پیپلز پارٹی صرف نشستیں جیتنے کے لیے آزاد کشمیر کا الیکشن نہیں لڑ رہی بلکہ شفاف انتخابی عمل کی خواہاں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے سینئر رہنما لطیف اکبر پر حملے کی اطلاع بھی ملی ہے اور مطالبہ کیا کہ امیدواروں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے، خواہ اس کے لیے فوج یا رینجرز ہی کیوں نہ تعینات کرنا پڑے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ سرگودھا سے اطلاع ملی ہے کہ ایک سابق لیگی رکن قومی اسمبلی نے بیلٹ پیپرز طلب کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست کا مقابلہ سیاسی انداز میں ہونا چاہیے، جتھوں کے ذریعے نہیں۔
پیپلز پارٹی کے پاس مبینہ دھاندلی کے شواہد موجود ہیں، نیئر بخاری
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) پر مبینہ دھاندلی اور انتخابی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انتخابی نتائج مسترد کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس مبینہ دھاندلی کے شواہد موجود ہیں اور چیف الیکشن کمشنر سمیت متعلقہ ریاستی اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مظفر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نیئر بخاری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) جبر، دھونس اور مبینہ دھاندلی کے ذریعے انتخابات جیتنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس آزاد کشمیر میں پہلے کتنی نشستیں تھیں جب کہ آج وہ کارکردگی کی بنیاد پر کامیابی کے دعوے کر رہی ہے۔
نیئر بخاری نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس مبینہ دھاندلی کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے سامنے بیلٹ پیپرز بھی پیش کیے اور کہا کہ حلقہ ایل اے 29 سٹی مظفرآباد کے ایک بیلٹ پیپر پر شیر کا انتخابی نشان مہر شدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپر پر پریذائیڈنگ افسر کے دستخط ہونا ضروری ہوتے ہیں، اس لیے پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے پولنگ ایجنٹس کو ہدایت کی ہے کہ غیر دستخط شدہ بیلٹ پیپرز کو گنتی میں شامل نہ ہونے دیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اپنے کارکنوں میں بیلٹ پیپر تقسیم کر رہے تھے اور کہا کہ اگر بیلٹ پیپر پہلے سے تقسیم کیے جا رہے ہیں تو ایسے انتخابات کو شفاف کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول بعض مقامات پر بیلٹ بکس بھر کر اپنے امیدواروں کو کامیاب کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نے مزید الزام لگایا کہ پارٹی کارکن مشتاق حسین کو قتل کیا گیا، جبکہ متعدد پولنگ اسٹیشنوں کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکن ووٹروں میں بیلٹ پیپر تقسیم کرتے رہے۔
نیئر بخاری نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے عوامی رائے کو نہیں کچلا جا سکتا اور جبر کے ذریعے آزاد کشمیر میں حکومت نہیں چل سکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے وزراء غلط بیانی کا سہارا لے رہے ہیں۔
انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر متعلقہ ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کا فوری نوٹس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ انتخابی عمل کو کسی صورت آزاد، منصفانہ اور شفاف قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے ایسے انتخابات کے نتائج بھی قابل قبول نہیں ہوں گے۔
نیئر بخاری نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی مبینہ بے ضابطگیوں کے تحت ہونے والے آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرے گی۔
آزاد کشمیر انتخابات کے مختلف مراحل پر تحفظات کا اظہار
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے مختلف مراحل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو توقع تھی کہ انتخابات آزادانہ اور شفاف ہوں گے تاہم موجودہ صورت حال پر الیکشن کمیشن کو فوری کردار ادا کرنا چاہیے۔
مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آزاد کشمیر انتخابات کے مختلف مراحل پر متعدد تحفظات ہیں اور انہیں امید تھی کہ انتخابی عمل صاف اور شفاف ہوگا مگر ان کے بقول الیکشن کمیشن نتائج اور صورتحال دیکھنے کے باوجود مؤثر کردار ادا نہیں کر رہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حلقہ ایل اے 31 کے ایک پولنگ اسٹیشن پر پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک کارکن جاں بحق ہوا جب کہ پیشگی آگاہ کرنے کے باوجود الیکشن کمیشن مناسب سیکیورٹی فراہم نہ کر سکا۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ قائم مقام صدر آزاد کشمیر کے حلقے کے دورے کے دوران بھی ان پر حملہ کیا گیا، جس سے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاست کے قائم مقام صدر کو ہی تحفظ حاصل نہیں تو عام شہریوں اور امیدواروں کی سیکیورٹی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حلقہ ایل اے 31 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 42 اور 43 پر پولنگ عملہ دوپہر 12 بجے پہنچا جب کہ بعض دیگر پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بجے تک بھی عملہ نہیں پہنچ سکا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ مخصوص حالات کے باعث ان کی جماعت نے انتخابات کو تین مراحل میں کرانے کا فیصلہ قبول کیا تھا، تاہم اب مختلف وجوہات کی بنیاد پر پولنگ ملتوی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر بارش یا درخت گرنے کی وجہ سے انتخابات ملتوی کیے جا رہے ہیں تو اس کی قابل قبول وجوہات سامنے لائی جائیں، کیونکہ سرکاری مشینری کے ذریعے راستے صاف کیے جا سکتے تھے۔
قمر زمان کائرہ نے الزام عائد کیا کہ بعض مقامات پر مسلم لیگ (ن) کے کارکن پولنگ عملے کو اپنے ساتھ لے گئے اور ان سے بیلٹ پیپرز پر مہریں لگوائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی عمل کو متاثر کر کے آزاد کشمیر کا الیکشن ان سے چھینا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نشستوں کے حصول کے لیے امن و امان کو داؤ پر لگایا گیا جب کہ فائرنگ اور کشیدہ حالات کے باوجود متعلقہ حکام نے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ریاست کے مفاد کی بات کر رہی ہے، جبکہ ان کے بقول بعض عناصر کی توجہ صرف اقتدار کے حصول پر مرکوز ہے۔
قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ مدت سے منتخب نمائندوں سے عوام کو توقعات وابستہ ہوتی ہیں، اس لیے انتخابی عمل کو ہر صورت شفاف، آزادانہ اور منصفانہ بنایا جانا چاہیے۔
(ن) لیگ آزاد کشمیر کا الیکشن کمیشن کو جوابی خط
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے الیکشن سیل نے الیکشن کمیشن کو جوابی خط لکھا ہے، جس میں پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے شکایت کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ایل اے 31 میں پیپلز پارٹی کی شکایت پر مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن کو جوابی خط بھیجا ہے، جس میں کہا گیا کہ راجہ ثاقب مجید اور کارکنان نے ضابطۂ اخلاق کے مطابق انتخابی عمل میں حصہ لیا، ایل اے 31 میں پولنگ مجموعی طور پر پرامن، شفاف اور منظم رہی، پیپلز پارٹی کے الزامات منصفانہ انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی کوشش ہیں۔
ن لیگ کے الیکشن سیل نے کہا ہے کہ ہر شکایت کا فیصلہ صرف شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیا جائے، ثبوت کے بغیر کسی امیدوار یا کارکن کے خلاف کارروائی نہ کی جائے، ایل اے 31 میں پولنگ کا پرامن اور شفاف انعقاد یقینی بنایا جائے، الیکشن کمیشن غیر جانبداری برقرار رکھے اور عوامی مینڈیٹ کا احترام یقینی بنائے۔
مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر الیکشن کمیشن پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح ن لیگ کے الیکشن سیل نے ایل اے 40 ویلی ون بھی پی پی کی شکایات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو جواب داخل کیا ہے اور کہا ہے کہ محمد نعیم خان، پولنگ ایجنٹس اور کارکنان نے ضابطۂ اخلاق کے مطابق انتخابی عمل میں حصہ لیا، انتظامی امور سے متعلق الزامات بے بنیاد اور غیر مصدقہ ہیں، پولنگ اسٹیشنز کے انتظامی معاملات الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہیں، بغیر شواہد انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
الیکشن سیل مسلم لیگ ن نے کہا ہے کہ تمام شکایات کا فیصلہ صرف قابلِ تصدیق شواہد اور سرکاری رپورٹس کی بنیاد پر کیا جائے، سیاسی بنیادوں پر دائر شکایات سے عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد مجروح نہ ہونے دیا جائے، ایل اے 40 (ویلی ون) میں پرامن، شفاف اور قانون کے مطابق پولنگ یقینی بنانے کی درخواست ہے، سلم لیگ (ن) آزاد کشمیر الیکشن کمیشن پر مکمل اعتماد کرتی ہے اور غیر جانبدارانہ فیصلوں کی توقع رکھتی ہے۔
الیکشن رونے سے نہیں جیتے جاتے، لڑنا پڑتا ہے: مریم اورنگزیب
مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات اور سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کردیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ آج آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ اختتام پذیر ہو رہا ہے اور مظفرآباد ڈویژن میں عوام نے بھرپور انداز میں حق رائے دہی استعمال کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میرپور ڈویژن کی طرح مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر بھی مسلم لیگ (ن) کامیابی حاصل کرے گی۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ کسی کا رونا بتا رہا ہے کہ میرپور کے بعد مظفرآباد میں بھی شیرجیت رہا ہے، او میرے بھائی الیکشن رونے سے نہیں جیتے جاتے، الیکشن لڑنا پڑتا ہے، میرپور میں الحمدللہ مسلم لیگ (ن) کی فتح کے بعد سے پیپلز پارٹی کا رونا بند نہیں ہورہا، رونے کے بجائے عوام سے ووٹ مانگیں، پولنگ اسٹیشن پر اپنے ووٹر لائیں، ووٹ اور ووٹر کے بغیر تو آپ الیکشن نہیں جیت سکتے، رونے اور دھمکیاں دینے سے آپ الیکشن نہیں جیت سکتے، عوام مسلم لیگ ن کے حق میں ووٹ ڈالیں گے، انشا اللہ فتح ہوگی، میرپور کی طرح مظفرآباد ڈویژن میں بھی انشاء اللہ شیرکی فتح ہوگی، رونے والے روتے رہیں گے اور شیر دھاڑتا رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے دو بیلٹ پیپر لہرا کر دھاندلی کا الزام لگایا حالانکہ یہ ہزاروں ووٹوں کا انتخاب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی دھاندلی کا الزام لگا رہی ہے تو اسے یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ آزاد کشمیر میں اس کی اپنی حکومت ہے، کیا وہ اپنی ہی انتظامیہ پر دھاندلی کا الزام عائد کر رہی ہے؟
مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ میرپور ڈویژن میں شکست کے بعد پیپلز پارٹی کو اپنی ناکامی کا جائزہ لینا چاہیے۔ ان کے بقول اگر عوام مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دے رہے ہیں تو بلاول بھٹو کو اس فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، کیونکہ الیکشن میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد عوامی فیصلے کا احترام کرنا اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانا ہے۔ ان کے مطابق جمہوری عمل کو سبوتاژ نہ کرنا ہی میثاقِ جمہوریت کی روح ہے۔
سینئر وزیر پنجاب نے کہا کہ اگر کسی جماعت کو انتخابی عمل میں کسی بے ضابطگی کا شبہ ہے تو اسے متعلقہ پلیٹ فارم سے رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ بغیر ثبوت انتخابی عمل کو متنازع بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کے روز صبح ہی دھاندلی کا بیانیہ شروع کر دیا گیا اور ایک کارکن کی مبینہ ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا جب کہ ان کے مطابق بلاول بھٹو کو معلوم ہے کہ دو گروپوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی تھی اور ایک بزرگ شہری کا انتقال ہارٹ فیل ہونے سے ہوا، انہیں گولی نہیں لگی تھی۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں اور بے نظیر بھٹو کی جدوجہد کا تقاضا بھی یہی ہے کہ عوام کے فیصلے کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور پارٹی کو یہی عوامی حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے بلاول بھٹو سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سیٹیں دھمکیوں یا دعوؤں سے نہیں بلکہ عوام کے ووٹ سے ملتی ہیں، اس لیے عوامی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تیاری مکمل نہ ہو تو امتحانی مرکز بند نہیں کیا جا سکتا، انتخابات سیاسی جماعتوں کا امتحان ہوتے ہیں اور مسلم لیگ (ن) نے اس امتحان کی بہتر تیاری کی، اسی لیے عوام اس پر اعتماد کر رہے ہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے اور امید ہے کہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی پارٹی بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔
بغیر ثبوت انتخابی عمل پر اعتراضات درست نہیں: امیر مقام
وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر ثبوت انتخابی عمل پر اعتراضات درست نہیں۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا کہ میرپور ڈویژن میں عوام نے مسلم لیگ (ن) کو اس کی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی نتائج پر بغیر ثبوت دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے حالاں کہ ایسی الزام تراشی کے بجائے سیاسی جماعتوں کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ عوام نے انہیں ووٹ کیوں نہیں دیا۔
امیر مقام نے کہا کہ عوام کے فیصلے کو کھلے دل سے قبول کیا جانا چاہیے اور بلیم گیم سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ الزامات لگانے سے انتخابی نتائج تبدیل نہیں ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں صدر اور وزیراعظم دونوں کا تعلق اسی جماعت سے ہے جو دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہے، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر دھاندلی کیسے ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج بھی قبول کیے تھے اور جمہوری عمل کا احترام کیا تھا۔
امیر مقام کے مطابق ابتدا میں چار حلقوں پر اعتراضات کیے گئے، بعد ازاں یہ اعتراضات دو حلقوں تک محدود ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ جن حلقوں کے حوالے سے اعتراضات سامنے آئے ہیں، ان کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو انتخابی عمل پر اعتراض ہے تو اسے متعلقہ فورمز سے رجوع کرنا چاہیے، تاہم بے بنیاد الزامات سے انتخابی نتائج تبدیل نہیں ہوں گے اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جانا چاہیے۔














