اوپیک پلس کا ستمبر میں یومیہ 1.88 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ
اوپیک پلس نے ستمبر 2026 سے تیل کی پیداوار میں یومیہ تقریباً ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ فیصلہ عالمی منڈی کی صورت حال اور طلب و رسد کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے جب کہ یہ مسلسل چھٹا مہینہ ہے جب اوپیک پلس نے پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اوپیک پلس کے 7 بنیادی رکن ممالک سعودی عرب، روس، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان اور عمان نے ستمبر سے تیل کی پیداوار میں یومیہ تقریباً ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافے پر اتفاق کیا ہے۔
اس فیصلے کے ساتھ ہی 2023 میں طے پانے والی 16 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ رضاکارانہ کٹوتی کو مرحلہ وار ختم کرنے کے منصوبے کا آخری مرحلہ ہے۔اس وقت متحدہ عرب امارات بھی اس گروپ کا حصہ تھا تاہم وہ مئی میں اوپیک سے علیحدہ ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خلیجی خطے، روس اور قازقستان سے تیل کی برآمدات ایران اور یوکرین کی جنگوں کے باعث متاثر رہیں، جس کی وجہ سے رواں برس اوپیک پلس کی جانب سے کیے گئے بیشتر ماہانہ پیداواری اضافوں کا عالمی منڈی پر محدود اثر پڑا۔
اجلاس سے قبل اوپیک پلس کے بعض ذرائع نے عندیہ دیا تھا کہ تنظیم سال کی آخری سہ ماہی میں پیداوار میں مزید اضافے کو روک سکتی ہے تاہم اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں اکتوبر سے دسمبر 2026 کے لیے کسی حکمت عملی کا ذکر نہیں کیا گیا۔
توانائی کے شعبے کے تجزیہ کار جارج لیون نے کہا کہ اوپیک پلس نے رضاکارانہ کٹوتیوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، اب تنظیم کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ برآمدات معمول پر آنے کے بعد ممکنہ اضافی رسد کو کیسے منظم کیا جائے۔ ان کے مطابق امکان ہے کہ اوپیک پلس 2027 کے پیداواری کوٹے پر مذاکرات کی تیاری کے لیے رواں سال کی آخری سہ ماہی میں پیداوار میں مزید تبدیلی سے گریز کرے۔
ادھر اوپیک پلس کی مشترکہ وزارتی نگرانی کمیٹی (جے ایم ایم سی) کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے کہا کہ ایسے حملوں سے ہونے والے نقصانات کی مرمت مہنگی اور وقت طلب ہوتی ہے، جس کے باعث تیل کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔
ستمبر کے اضافے کے باوجود اوپیک پلس کی جانب سے 2022 میں نافذ کی گئی تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ کی ایک اور پیداواری کٹوتی بدستور برقرار رہے گی، جو رواں سال کے اختتام تک نافذ العمل رہنے کا منصوبہ ہے۔
اوپیک پلس اس وقت رکن ممالک کی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت کا جائزہ بھی لے رہا ہے، جس کی بنیاد پر 2027 کے پیداواری کوٹے مقرر کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے عراق سمیت بعض رکن ممالک اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے باعث زیادہ کوٹے کے خواہاں ہیں۔
اوپیک پلس میں اوپیک کے رکن ممالک کے علاوہ روس اور دیگر اتحادی ممالک سمیت مجموعی طور پر 21 ممالک شامل ہیں جب کہ تنظیم کے بنیادی 7 رکن ممالک کا اگلا اجلاس 6 ستمبر کو ہوگا۔














