یمن کی حوثی ملیشیا کا مبینہ حملہ، بھارتی بحری جہاز ڈوب گیا
یمن کے قریب بحیرہ احمر میں ایک بھارتی پرچم بردار تجارتی جہاز ’ایم ایس وی فیض نورِ اولیا‘ کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور وہ سمندر میں غرق ہو گیا۔
یہ واقعہ حدیدہ اور مخا بندرگاہ کے قریب پیش آیا۔ حادثے کے وقت جہاز پر 14 افراد سوار تھے جن میں سے 13 کا تعلق بھارت سے تھا۔
ایرانی میڈیا اور حکام کے مطابق یمنی کوسٹ گارڈ نے بروقت اقدام کرتے ہوئے جہاز پر موجود تمام 14 افراد کو بحفاظت بچا کر مخا بندرگاہ منتقل کر دیا ہے۔
اگرچہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ کس کی جانب سے کیا گیا، تاہم یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی وزارتِ ترسیلات و مواصلات نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کے حامی حوثی جنگجوؤں نے اس بھارتی جہاز کو ایک دھماکہ خیز کشتی کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
حوثی گروپ کی جانب سے اس واقعے پر فی الحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کے بحری جہاز رانی کے وزیر سربانند سونووال نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ ”ہم اس بلا اشتعال حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور خطے میں اپنے تمام سمندری عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے“۔
دوسری جانب بھارتی وزارتِ خارجہ نے بھی تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ”خطے میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کے یہ واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ تجارتی جہازوں پر حملوں کا یہ سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق تمام بین الاقوامی بحری راستوں سے تجارت کی آزادانہ اور بغیر کسی رکاوٹ کے بحالی کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے“۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب فروری میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد سے بحیرہ احمر کا متبادل راستہ بھی شدید خطرات کی زد میں آ چکا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور جواباً ایرانی اقدامات کے باعث خطے کی تجارتی اور ایندھن کی نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ہے۔ سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں پر حوثی حملوں کے باعث بھارتی آئل کمپنیوں نے بھی اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلیاں کی ہیں۔
دوسری جانب خطے میں بحران کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، جہاں امریکی حکام آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش رفت کی امید ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے بجائے عمان کے توسط سے بات چیت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔














