میر رضا علی کیس کی گتھی 90 فیصد سلجھ گئی: 'قتل نہیں خودکشی ہے'

اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے تمام تفصیلات عام کی جائیں گی: تفیتیش حکام
شائع 05 اگست 2026 09:51am
Mir Reza Ali Case | New Investigation Details | Karachi Update - Aaj News

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی، آئی بی اے کے گریجویٹ اور ’وافلکس‘ کے 25 سالہ بانی میر رضا علی کی ہلاکت کا معمہ تقریباً حل ہوگیا ہے۔

کراچی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ تجربہ کار تفتیشی افسران کو نوے فیصد یقین ہے کہ یہ خودکشی کا معاملہ ہے۔ پولیس کے مطابق مقتول شدید مالی دباؤ کا شکار اور مقروض تھا۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے تمام تفصیلات عام کی جائیں گی، جبکہ اس کیس میں دوستوں، قرض داروں اور راہگیروں سمیت مجموعی طور پر 19 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔

گزشتہ روز کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سندھ نے مقتول کی اسمارٹ واچ کو کامیابی سے ان لاک کر کے اس سے اہم ڈیٹا حاصل کیا تھا، جس میں مالی لین دین اور دیگر ضروری حساب کتاب کی معلومات شامل ہیں۔ تاہم پولیس کی ٹیکنیکل ٹیم ابھی تک مقتول کے آئی فون کا کوڈ کریک کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا گھر سے نکلتے وقت اسمارٹ واچ اور گاڑی گھر چھوڑ گئے تھے اور ان کے موبائل اور گھڑی سے ڈیٹا ڈیلیٹ کیا گیا تھا۔ پولیس کو جائے وقوعہ سے 200 گز دور مقتول کا فون اور پستول کا ہولسٹر ملا تھا، تاہم اصل اسلحہ اور گولی کا خول اب تک برآمد نہیں ہو سکا۔

ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا علی کو اپنی دکان سے اسلحہ اٹھاتے بھی دیکھا گیا۔ جبکہ ایک اور سی سی ٹی وی میں انہیں کوئی چکمتی ہوئی چیز سڑک پر پھینکتے دیکھا گیا، جس کے بارے میں پولیس کو شک ہے کہ موبائل فون ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب مقتول کے والد حسین رضا نے تفتیش اور میڈیکل رپورٹ پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خودکشی کے امکان کو رد کر دیا ہے۔

میر حسین رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میرے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے جبکہ اس کی موت کو خودکشی کا رنگ دیا جا رہا ہے۔ اس کے چہرے، جسم اور ہاتھوں کے فنگر پرنٹس کو جلایا گیا اور اسے پیچھے سے گولی ماری گئی“۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”میڈیکل رپورٹ صرف گولی لگنے کی کیوں آئی ہے؟ اس میں تشدد کے بارے میں کیوں نہیں بتایا گیا؟ جب میرا بیٹا 28 جولائی کو لاپتہ ہوا اور 29 جولائی کو لاش ملی تو وہ ان 24 گھنٹوں میں کہاں تھا؟ ٹیکسی ڈرائیور کے مطابق میرا بیٹا گاڑی میں گانے سن رہا تھا اور خوش تھا“۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پوسٹ مارٹم کی ابتدائی تفصیلات اور پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق لاش پر شدید گرمی اور وقت گزرنے کے باعث گلنے سڑنے کے آثار تھے، لیکن لاش کو جلائے جانے کے شواہد نہیں ملے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق میر رضا کو گولی سینے پر لگی تھی، تاہم اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ گولی پیچھے سے تو نہیں لگی۔

پولیس نے جائے وقوعہ کے قریب کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی ہے جس میں ایک مشکوک موٹر سائیکل 22 سیکنڈ کے لیے رکی دیکھی گئی۔ مقتول کے والد کے مطابق میر رضا کا اگست میں نکاح طے تھا اور اس کی کسی سے دشمنی نہیں تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موبائل کی فرانزک اور مکمل میڈیکل رپورٹ ملنے کے بعد کیس کی اصل حقائق سامنے لائے جائیں گے۔