کراچی کے مقتول نوجوان علی رضا کا فون مل گیا، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف

مقتول کا گمشدہ موبائل فون اور ایک پستول کا ہولسٹر ملا ہے: پولیس
اپ ڈیٹ 01 اگست 2026 01:08pm

کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے ملنے والی انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے گریجویٹ اور نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی لاش کے معائنے اور تفتیش کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی تفصیلات کے مطابق 25 سالہ علی رضا کی موت سینے میں ایک گولی لگنے اور شدید خون بہنے کی وجہ سے ہوئی۔

تفتیشی ذرائع نے بتایا ہے کہ پوسٹ مارٹم میں لاش کو جلائے جانے کے شواہد نہیں ملے، تاہم گرمی اور وقت گزرنے کی وجہ سے جسم پر گلنے سڑنے کے آثار موجود تھے جس کی پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ نے بھی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل ابتدائی طور پر لاش کی حالت کے باعث شناخت میں دشواری پیش آئی تھی، جس پر والد نے کپڑوں کی مدد سے اپنے بیٹے کی شناخت کی تھی۔

تفتیشی حکام کو اندھے قتل کے اس کیس میں جائے وقوعہ سے تقریباً 200 گز کے فاصلے سے مقتول کا گمشدہ موبائل فون اور پستول کا ہولسٹر ملا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کی لاش ملنے سے ایک روز قبل ان کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پراسرار طور پر بند کر دیے گئے تھے، جس کے بعد اب ٹیلی کام کمپنی سے فون ریکارڈ اور رابطوں کا ڈیٹا بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق، آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کو شاملِ تفتیش کر کے بیان لیا گیا ہے جس کے مطابق میر رضا نے 28 جولائی کی صبح 4 بجکر 9 منٹ پر پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی سے ٹیکسی لی تھی اور انہیں گلستانِ جوہر میں اتارا گیا تھا، تاہم ذرائع کے مطابق مقتول اپنے بزنس سیٹ اپ کے کچن تک نہیں پہنچ سکے تھے۔

مقتول کے والد میر حسین علی نے پولیس کو واقعے کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا بیٹا ’وافلکس‘ کا بانی تھا اور گزشتہ پانچ برسوں سے اپنا کاروبار چلا رہا تھا۔ 28 جولائی کی شب وہ اپنی دکان سے گھر واپس آیا اور والدہ سے یہ کہہ کر باہر نکلا کہ وہ 10 منٹ میں گھر کے نیچے سے ہو کر واپس آتا ہے، لیکن پھر واپس نہیں لوٹا۔ ایک روز بعد 29 جولائی کو گلستانِ جوہر کے بلاک ون سے جھاڑیوں سے ان کی لاش ملی۔

مقتول کے والد نے غم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ میر رضا کا اگست میں نکاح طے تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔

میر حسین علی کا کہنا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی یا لین دین کا تنازع نہیں تھا، ان کا بیٹا مارکیٹنگ کا ایک قابل طالب علم تھا اور ان کا غرور تھا۔

پولیس نے تمام ملنے والے شواہد کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔