کراچی: فیروز آباد سے لاپتہ نوجوان کی لاش گلستانِ جوہر سے برآمد
کراچی کے علاقے فیروز آباد سے لاپتہ ہونے والے 25 سالہ نوجوان میر رضا علی کی لاش گلستانِ جوہر سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پھر گولیاں مار کر قتل کیا گیا جبکہ شواہد مٹانے کے لیے لاش کو جلانے کی بھی کوشش کی گئی۔
پولیس کے مطابق میر رضا علی پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے رہائشی اور کاروباری تھے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ دو روز قبل بہادرآباد میں واقع اپنی دکان سے گھر واپس آئے تھے، تاہم چند منٹ بعد دوبارہ باہر جانے کے لیے آن لائن ٹیکسی بک کی اور اہل خانہ کو بتایا کہ وہ دس منٹ میں واپس آ جائیں گے۔
اہل خانہ کے مطابق اس کے بعد میر رضا علی کا موبائل فون بند ہوگیا اور وہ گھر واپس نہ آئے۔ مسلسل تلاش اور رابطے کی کوششیں ناکام ہونے پر ان کے والد میر حسین علی نے فیروز آباد تھانے میں اغواء کا مقدمہ درج کرایا۔
اسی دوران گلستانِ جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب ایک لاش کی اطلاع ملی۔ پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے تو لاش کی شناخت میر رضا علی کے نام سے ہوئی۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق مقتول کو پہلے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بعد ازاں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کے مختلف حصے جھلسے ہوئے تھے، جس سے شبہ ہے کہ شواہد مٹانے کے لیے اسے جلانے کی کوشش کی گئی۔ حکام کے مطابق لاش چند روز پرانی معلوم ہوتی ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جب کہ فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ تفتیشی حکام اغوا، ذاتی دشمنی، مالی تنازع اور دیگر ممکنہ محرکات سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ میر رضا علی کے اغواء سے لے کر قتل تک کے تمام واقعات کی کڑیاں جوڑی جا رہی ہیں اور مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج، آن لائن ٹیکسی کی تفصیلات اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے۔
حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی قتل کی اصل وجہ اور ذمہ داروں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا جا سکے گا۔

















