غزہ بورڈ آف پیس نے حماس کو مرحلہ وار غیر مسلح کرنے کا معاہدہ کرلیا: صدر ٹرمپ

یہ معاہدہ غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے: امریکی صدر
شائع 31 جولائ 2026 09:11am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بورڈ آف پیس نے غزہ میں حماس سمیت تمام مسلح گروہوں کو مرحلہ وار غیر مسلح کرنے سے متعلق ایک تاریخی معاہدہ کر لیا ہے، جسے خطے میں دیرپا امن اور نئی سیاسی پیش رفت کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ جیسے ہی غزہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کا عمل پایۂ تکمیل تک پہنچے گا، اسرائیلی افواج مرحلہ وار غزہ سے واپس چلی جائیں گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جبکہ اس پر عمل درآمد مرحلہ وار، منظم اور طے شدہ طریقۂ کار کے تحت کیا جائے گا۔

امریکی صدر کا پیغام میں مزید کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت ایک بین الاقوامی استحکام فورس فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں سیکیورٹی اور انتظامی امور کی ذمہ داری سنبھالے گی، تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور منتقلی کا عمل پرامن انداز میں مکمل ہو۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ بورڈ آف پیس نے آج غزہ میں حماس سمیت تمام مسلح گروہوں سے متعلق ایک تاریخی معاہدہ طے کیا ہے، جو ان کے بقول خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

اس حوالے سے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی تصدیق کی کہ ہتھیاروں اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے مرحلہ وار انخلا پر معاہدہ طے پاگیا ہے۔

حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ثالث کردار ادا کریں، امید ہے ثالث اور بورڈ آف پیس اسرائیل کو معاہدے کا پابند بنائیں گے۔

حماس کو غیر مسلح کرنے کا عمل کیسے کام کرے گا؟

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکا اور بورڈ آف پیس کے حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک ابتدائی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس منصوبے میں ہتھیار جمع کرانے کا عمل کئی مرحلوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔

حکام نے ایک فون کال کے دوران بتایا کہ پہلے مرحلے میں غزہ میں موجود حماس اپنی سرکاری نوعیت کے ہتھیار عبوری انتظامیہ کے حوالے کرے گی۔

اس کے بعد بھاری ہتھیاروں کو ختم کرنے کا عمل شروع ہوگا۔ حکام کے مطابق اس میں زیر زمین سرنگوں اور اسلحہ کے گوداموں کو بند کرنا بھی شامل ہوگا۔ اس کے ساتھ ان جنگجوؤں کو بھی اپنی سرگرمیاں روکنا ہوں گی جو ان مقامات پر کام کر رہے ہیں۔

امریکی اور بورڈ آف پیس کے حکام نے کہا کہ یہ ایک بہت تکنیکی عمل ہوگا، جس میں سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ جمع کیے گئے ہتھیاروں کو محفوظ طریقے سے کہاں اور کیسے رکھا جائے۔

حکام کے مطابق آخری مرحلے میں غزہ میں موجود تمام ذاتی ہتھیاروں کے بارے میں بھی فلسطینی قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا اور ان سے متعلق کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا، ”اس عمل کے دوران مختلف مسلح گروہوں اور قبائلی دھڑوں کو بھی اپنے ہتھیار جمع کرانے ہوں گے۔“

حکام نے واضح کیا کہ یہ صرف مجوزہ طریقہ کار کا ابتدائی خاکہ ہے، جبکہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے آئندہ مزید تفصیلات اور متعلقہ فریقوں کی رضامندی درکار ہوگی۔