جاپان کا وجود تقریباً مٹا دینے والے بدترین زلزلے

جاپان کے ہولناک زلزلے: ایک سانحہ جس نے دارالحکومت کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔
شائع 30 جولائ 2026 12:40pm

جاپان ایک بار پھر شدید زلزلے کے باعث خبروں میں ہے۔ حالیہ زلزلے نے ماضی میں آنے والی ان تباہ کن آفات کی یاد تازہ کر دی ہے جنہوں نے ملک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔

جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے اور سونامی کوئی نئی بات نہیں ہیں، تاہم تاریخ میں چند ایسے زلزلے بھی گزرے ہیں جنہوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا اور شہروں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔

رپورٹس کے مطابق منگل کے روز جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں 7.1 شدت کا زلزلہ آیا۔ جاپانی ایمرجنسی ایجنسی اور محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کے بعد متعدد علاقوں میں نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ کچھ لوگ ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ زلزلے کے باعث ریلوے نظام متاثر ہوا اور کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی۔

اس تازہ زلزلے نے 2011 کے تباہ کن توہوکو زلزلے اور سونامی کی یاد تازہ کر دی، جس میں 20 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ ہزاروں افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ تاہم جاپان کی تاریخ میں اس سے بھی پہلے کئی ایسے زلزلے آ چکے ہیں جنہیں دنیا کی بدترین قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔

ان میں سب سے زیادہ تباہ کن 1923 کا کانتو زلزلہ تھا۔ یکم ستمبر 1923 کو کانتو کے علاقے، جہاں ٹوکیو اور یوکوہاما جیسے بڑے شہر واقع ہیں، میں 7.9 سے 8.2 شدت کا زلزلہ آیا۔ اس کے نتیجے میں ٹوکیو، یوکوہاما، کاناگاوا، چیبا اور شیزووکا سمیت کئی علاقے شدید متاثر ہوئے۔ زلزلے کے بعد مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی جو تیز ہواؤں کے باعث تیزی سے پھیل گئی اور تباہی میں مزید اضافہ ہوا۔

کانتو زلزلے کو جاپان کی تاریخ کا سب سے جان لیوا زلزلہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس سانحے میں ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ لاکھوں عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ ٹوکیو کا بڑا حصہ کھنڈر میں تبدیل ہو گیا تھا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس تباہی کے بعد جاپانی حکام نے کچھ عرصے کے لیے دارالحکومت کو کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا تھا۔

اس سے پہلے 15 جون 1896 کو ہونشو جزیرے کے سانریکو ساحل کے قریب 8.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ ابتدا میں لوگوں نے صرف ہلکے جھٹکے محسوس کیے، لیکن تقریباً 35 منٹ بعد 35 میٹر سے بھی زیادہ بلند سونامی کی لہریں ساحل سے ٹکرا گئیں۔ ان لہروں نے ساحلی شہروں، بندرگاہوں اور گھروں کو شدید نقصان پہنچایا اور کم از کم 22 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بعد ازاں اس سانحے نے ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ بعض اوقات معمولی محسوس ہونے والے زلزلوں کے بعد بھی انتہائی خطرناک سونامی آ سکتا ہے۔

جاپان کی تاریخ کا ایک اور اہم زلزلہ 28 اکتوبر 1707 کو آیا، جسے ’ہوئے زلزلہ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی شدت 8.7 ریکارڈ کی گئی تھی اور یہ جنوبی جاپان کے وسیع علاقوں میں محسوس کیا گیا۔ اس زلزلے سے ہونشو، شیکوکو اور کیوشو کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا جبکہ اس کے بعد آنے والی سونامی نے تباہی میں اضافہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس زلزلے کے تقریباً 49 دن بعد ماؤنٹ فوجی آتش فشاں بھی متحرک ہو گیا تھا۔

تاریخی ذرائع کے مطابق اس سانحے میں 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان بحرالکاہل کے ”رِنگ آف فائر“ میں واقع ہے، جہاں کئی زمینی پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔ اسی وجہ سے یہ ملک دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ زدہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں زلزلوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے جدید تعمیراتی معیار اور ہنگامی نظام پر مسلسل کام کیا جاتا ہے۔