محسن نقوی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، گڈ گورننس کے لیے کچھ کرنا ہوگا: ڈی جی آئی ایس پی آر

آبادی بڑھ چکی ہے، صوبے وہی چار ہیں، ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا: ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس
اپ ڈیٹ 31 جولائ 2026 06:17pm

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے صوبوں سے متعلق بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سیکیورٹی اور دیگر مسائل کے حل کے لیے گڈ گورننس بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر امن و استحکام ممکن نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف سے پریس بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ وہ وزیر داخلہ کی گفتگو پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔

انہوں نے کہا کہ محسن نقوی بطور وزیر اور بطور رکن پارلیمنٹ اپنی رائے رکھنے کا حق رکھتے ہیں۔ ان کے بقول، اچھی حکمرانی پاکستان کے عوام کا حق ہے اور ملک کو اس کی ضرورت ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے۔ ان کے بقول، پاک فوج کا وژن واضح ہے کہ اچھی حکمرانی کے بغیر نہ ملک میں امن و استحکام آ سکتا ہے اور نہ ہی عوام کو درپیش مسائل کا مؤثر حل ممکن ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ کی مکمل خبر پڑھیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق موجود ہے اور دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ بھی اسی فریم ورک کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کا دارومدار بھی مؤثر گڈ گورننس پر ہے، اس لیے اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر بہتری اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اگر انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو وہ ہونا چاہیے، جب کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی گورننس میں بہتری لائی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئین و قانون کے مطابق کام کرتی ہے اور عوام کی رائے کا احترام کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی گزشتہ چند دہائیوں میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ 1972 میں ملک کی آبادی تقریباً 7 سے 8 کروڑ تھی، جو اَب بڑھ کر تقریباً 25 کروڑ ہو چکی ہے، جب کہ انتظامی ڈھانچہ بنیادی طور پر وہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ ہر مسئلے پر فوج اور پولیس کو سامنے کھڑا نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ہر مسئلے کا حل ہتھیار یا ڈنڈا اٹھانا ہے۔ ان کے بقول، سیاسی اور معاشی نظام کو اپنے مسائل خود حل کرنا ہوں گے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو اسلام آباد میں اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ موجودہ نظام مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور کوئی مانے یا نہ مانے، سسٹم ناکارہ ہو چکا ہے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کی جانب جانا ناگزیر ہے، کیونکہ موجودہ نظام کے ساتھ آگے بڑھنے سے آئندہ برسوں میں بھی یہی مسائل برقرار رہیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ کے دوران انھوں نے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہدا کے بارے میں جو بات کی گئی وہ ناقابل فہم ہے، شہیدوں سے متعلق ایسی بات کی گئی جس سے بھارت خوش ہوتا ہے، وردی پہن کر ہم نے اپنا آج آپ کے کل کے لیے قربان کرنے کی نیت کی ہے۔ شہادت اور شہید پاک فوج کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔