یہ پڑھ کر شاید آپ سالگرہ کا کیک کھانا چھوڑ دیں
جب آپ سالگرہ میں شرکت کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ برتھ ڈے بوائے یا گرل کیک پر لگی موم بتی کو پھونک مار کر بجھاتے ہیں۔ ظاہر ہے آپ کا دل بھی کرتا ہے آپ کو اس لذیذ کیک کا ایک ٹکڑا ضرور ملے۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں موم بتی پر ماری گئی اس پھونک نے کتنے جراثیم اس کیک پر منتقل کئے؟
محقیقین نے ٹیسٹ کیلئے اسٹائروفوم سے ایک جعلی کیک تیار کیا جس پر کیک فروسٹنگ سے مزین ایک فوئل لگا تھا۔ اس فوئل پر موم بتیاں لگائی گئیں جس طرح اصلی سالگرہ کے کیک پر لگائی جاتی ہیں۔
اس کے بعد موم بتیوں کو پھونک مار کر بجھایا گیا اور پھونک مارے گئے کیک کا موازنہ بِنا پھونک مارے گئے کیک سے کیا گیا۔
ٹیسٹ میں پایا گیا کہ جس کیک پر پھونک ماری گئی تھی اس پر دوسرے کیک کی نسبت 15 گنا زیادہ جراثیم پائے گئے ہیں۔
لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں، عام طور پر یہ جراثیم نقصاندہ نہیں ہوتے۔
تحقیق کے شریک مصنف اور کلیمسن یونیورسٹی ساوتھ کیلیفورنیا کے فوڈ سیفٹی پروفیسر پال ڈاسن کا کہنا ہے کہ یہ کوئی بڑا خطرہ نہیں، حقیقت میں اگر ایک لاکھ بار ایسا کیا جائے تب بھی آپ کے بیمار ہونے کا چانس بہت کم ہے۔
لیکن اگر برتھ ڈے بوائے یا گرل واضح طور پر بیمار ہے یا اسے فلو، نزلہ جیسی کوئی بیماری ہے تو کیک سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔
بشکریہ Livescience.com


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔