گلگت بلتستان انتخابات: پیپلز پارٹی 4 اور آزاد امیدوار ایک نشست جیتنے میں کامیاب

24 حلقوں میں ہونے والی پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری، غیر حتمی نتائج آنے کا سلسلہ جاری
اپ ڈیٹ 07 جون 2026 11:31pm

گلگت بلتستان اسمبلی کے چوتھے عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل اتوار کو شام پانچ بجے مکمل ہوگیا۔ جس کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے کا سلسلہ جاری ہے۔ غیرحتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے 4 نشستوں پر میدان مار لیا جب کہ ایک نشست پر آزاد امیدوار کامیاب ہوا۔

گلگت بلتستان میں اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں 24 حلقوں پر 396 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں، پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد مختلف پولنگ اسٹیشنوں سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

آج نیوز تمام 24 حلقوں سے موصول ہونے والے نتائج کو سب سے پہلے اپنے ناظرین سے شیئر کررہا ہے۔

مکمل نتائج آنے والے حلقے

گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات میں اب تک 5 حلقوں کے مکمل نتائج سامنے آگئے ہیں، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے 4 جب کہ ایک حلقے پر آزاد امیدوار نے میدان مار لیا۔

جی بی اے 4 نگر

حلقہ جی بی اے 4 نگر ون کے تمام 53 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد علی اختر نے 7670 ووٹ حاصل کرکے میدان مار لیا جب کہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب 6566 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی اے 7 اسکردو

حلقہ جی بی اے 7 اسکردو 1 کے تمام 31 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4337 ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائے جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار راجہ جلال حسین خان 3891 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی اے 9 اسکردو

حلقہ جی بی اے 9 اسکردو 3 کے تمام 54 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 6270 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جب کہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6240 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی اے 10 اسکردو

حلقہ جی بی اے 10 اسکردو 4 کے تمام 51 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امید وار راجہ ناصرعبداللہ 5680 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار خان وزیر 3409 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی اے 24 گھانچے

حلقہ جی بی اے 24 گھانچے 3 کے تمام 46 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق 7175 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5195 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

کن حلقوں کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے؟

حلقہ جی بی اے 1 گلگت 1 کے 80 پولنگ اسٹیشنز میں سے 28 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 3600 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد شفیق الدین 2300 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2 کے 91 پولنگ اسٹیشنز میں سے 27 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان 4129 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2695 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 3 گلگت 3 کے 82 پولنگ اسٹیشنز میں سے 42 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد اقبال 5000 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار سید سہیل عباس 3867 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 5 نگر 2 کے 32 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار جہانگیر شاہ 814 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جاوید علی منوا 629 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ کے 88 پولنگ اسٹیشنز میں سے 77 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار نیک نام کریم 5612 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پیپلزپارٹی کے امید وار امتیاز الحق 4540 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2 کے 70 پولنگ اسٹیشنز میں سے 37 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 6190 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے محمد کاظم 5978 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 11 کھرمنگ کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 40 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امید وار اقبال حسن 5315 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محسن رضوی 4220 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 12 شگر کے 71 پولنگ اسٹیشنز میں سے 35 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 6367 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ اسلامی تحریک کے راجہ اعظم خان 3679 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 13 استور 1 کے 57 پولنگ اسٹیشنز میں سے 36 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 4368 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4312 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 14 استور 2 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 24 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد فاروق 3390 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق لون 3383 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 15 دیامر 1 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 8 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار محمد دلپزیر 1274 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ولی الرحمان 805 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 16 دیامر 2 کے 42 پولنگ اسٹیشنز میں سے 16 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار امام مالک 2790 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار عطا اللہ 2474 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 17 دیامر 3 کے 46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 6 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 1306 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ آزاد امیدوار عبدالکریم 803 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 18 دیامر 4 کے 32 پولنگ اسٹیشنز میں سے 5 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان 1256 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 1162 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 19 غذر 1 کے 78 پولنگ اسٹیشنز میں سے 59 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار جلال علی شاہ 6125 ووٹ لے کر پہلے نمبر جب کہ آزاد امیدوار نواز خان ناجی 5886 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 20 غذر 2 کے 69 پولنگ اسٹیشنز میں سے 26 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار نذیر احمد 2624 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ آزاد امیدوار صفدر علی شیرازی 2542 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 21 غذر 3 کے 60 پولنگ اسٹیشنز میں سے 14 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار امان علی 2040 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے غلام محمد 1788 ووٹ لے کر دوسرے اور پیپلزپارٹی کے محمد ایوب شاہ 1126 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 22 گھانچے 1 کے 58 پولنگ اسٹیشنز میں سے 39 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی 7204 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 5997 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 23 گھانچے 2 کے 50 پولنگ اسٹیشنز میں سے 22 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 6596 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جب کہ آزاد امیدوار عبد الحمید 1365 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

سیکیورٹی انتظامات

انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات نظر آئے۔ صرف گلگت کے تین حلقوں میں ساڑھے 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔

گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے مختلف پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کیا اور ووٹنگ کے عمل کا جائزہ لیا۔ انتخابی مہم کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں نے بھرپور سرگرمیاں جاری رکھیں، جن میں جلسے، عوامی رابطہ مہم، وعدے اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی شامل رہا۔

گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے جب کہ 24 براہ راست منتخب ارکان، 6 خواتین نشستیں، 3 نشستیں ٹیکنو کریٹس کے لیے مختص ہیں۔

حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ان انتخابات میں سب سے زیادہ یعنی 23 امیدوار کھڑے کیے ہیں، اس کے بعد دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن ہے جس کے 22 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 19 آزاد امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی نے 15، پاکستان نظریاتی پارٹی نے 10 حلقوں سے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) اور اسلامی تحریک پاکستان کے 9، 9 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جب کہ مجلس وحدت مسلمین کے 7 امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6،6 امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جب کہ عوامی ورکرز پارٹی کے 4 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔

انتخابات میں مجموعی طور پر 266 آزاد امیدوار بھی کھڑے ہیں، اس کے علاوہ 8 خواتین امیدوار بھی مختلف حلقوں میں انتخابی دوڑ کا حصہ ہیں۔

الیکشن کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار480 ہے، جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 3 ہزار 772 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 708 ہے۔

24 حلقوں میں 396 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 266 آزاد امیدوار ہیں۔ دیامر اور اسکردو سیاسی طور پر انتہائی اہم اضلاع ہیں دونوں اضلاع میں چار، چار انتخابی حلقے ہیں۔

گلگت، غذر اور گانچھے میں تین، تین انتخابی حلقے جبکہ نگر اور استور کے حصے میں دو، دو انتخابی حلقے ہیں۔ اس کے علاوہ ہنزہ، شگر اور کھرمنگ چھوٹے اضلاع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلع میں ایک، ایک انتخابی حلقہ ہے۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے یہ چوتھے عام انتخابات ہیں، جنہیں خطے میں سیاسی استحکام اور عوامی نمائندگی کے تعین کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔