ہٹلر کے بارے میں 8 دلچسپ اور عجیب حقائق
ہٹلر کو روئے زمین پر سب سے برا اور شیطان خصلت انسان سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس نے نسل پرستی کو انتہا تک پہنچا دیا تھا۔ ہٹلر نے عالمی پیمانے پر تباہی اور بربادی کے خیال کو جنم دیا، جس کے تحت لاکھوں لوگوں کی جانیں گئیں۔ لیکن کیا کوئی آدمی بالکل درندہ ہو سکتا ہے؟ کیا وہ شروع سے ہی ایسا تھا؟
اس کو سمجھنے کیلئے ہٹلر کی زندگی پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اسی لئے یہاں آپ کو دنیا کے سب سے خطرناک ڈکٹیٹر اور یہودیوں کو واصل جہنم کرنے والے ہٹلر کے بارے میں 8 انتہائی دلچسپ حقائق سے آگاہ کررہے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے۔
٭ ہٹلر کی محبت
بہت کم لوگوں کا پتا ہے کہ یہوڈیوں کے دشمن ہٹلر کو بچپن میں ایک یہودی لڑکی سے محبت ہو گئی تھی جس کا نام اسٹیفنی آئزیک تھا۔ لیکن کمال کی بات تو یہ تھی کہ اسٹیفنی کو ہٹلر کے جذبات کا بالکل پتا نہیں تھا۔ ہٹلر بچپن میں بہت شرمیلا تھا اسی لئے کبھی بھی اپنی محبت کا اظہار نہیں کرپایا۔
٭ نظام انہضام کے مسائل
ہٹلر کو اپنی پوری زندگی معدے کی نالی میں مختلف مسائل کا سامنا رہا۔ اس کو مسلسل پیٹ درد، گیس، دائمی ہیضہ اور کھانے کے بعد بے سکونی کی شاکایت رہتی تھیں۔ اس کو ڈر ترھا بکجہ کہیں کسی کو ان کے بارے میں پتا نہ چل جائے، اسی لئے اس نے 29 مختلف اقسام کی دواؤں کو استعمال کرنا شروع کردیا، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
٭ ہٹلر کا صرف ایک خصیہ تھا
1916 میں ہونے والی جنگ عظیم اول کی جنگ سوم کے دوران جرمن ریاست کیلئے لڑتے ہوئے زخمی ہونے پر ہٹلر کی جان بچانے کے لئے اس کا ایک خصیہ ڈاکٹروں نے نکال دیا تھا۔ لوگوں کا ماننا تھا کہ ہٹلر ساری زندگی احساس کمتری کا شکار رہا۔
٭ ہٹلر کو پادری بننا تھا
ہٹلر جب چار سال کاتھا تو سخت سردیوں کے دوران وہ ایک جھیل میں جاگرا، جہاں ایک پادری نے اسکی جان بچائی۔ اس واقعے نے ہٹلر کے دماغ اتنا متاثظر کیا کہ اس نے پادری بننے کی ٹھان لی۔ بعد ازاں اسے لگا خدا کی خدمت کے بجائے خود خدا بننے کا فیصلہ کیا۔
٭ خواتین کی طرف رجحان
لوگوں کو لگتا ہوگا کہ اتنا سنگدل شخص جس کے پاس جنگ و جدل سے فرصت نہیں وہ لڑکیوں کیا دلچسپ رکھتا ہوگا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اسے لڑکیوں میں رہنا زیادہ پسند تھا۔ خواتین کی مرضی کے بنا ان کے مخصوص اعضاء کو چھونا اور انہیں تنگ کرنا اس کی عادت تھی۔ صرف یہی نہیں، کہا جاتا ہے کہ اس کے اپنی بھانجی گیلی رابل کے ساتھ بھی جنسی تعلقتا تھی۔ گیلی نے 23 سال کی عمر میں خودکشی کرلی تھی۔
٭ ہٹلر کو گاڑی چلانا نہیں آتا تھا
اتنا بڑا جنرل اور دنیا پر راج کرنے کا خواہشمند گاڑی چلانا نہ جانتا ہو۔ یہ سننے میں عجیب تو لگتا ہے لیکن یہ سچ ہے۔ ہٹلر نے لوگوں کے سامنے شرمندگی سے بچنے کیلئے کبھی گاڑی چلانا نہیں سیکھی، لیکن ایک عدد پرسنل ڈرائیور کے ساتھ اس نے اتنی ﷽ڑی فوج کو آسانی سے سنبھال لیا۔
٭ ہٹلر سبزی خور تھا
ہٹلر کو جانوروں سے لگاؤ تھا، اسی لئے وہ ان کا گوشت کھانا بھی پسند نہیں تھا۔ اس کا ذخر اس نے اپنی ذاتی ڈائری میں بارہا کیا۔ یہاں تک کہ جنگ ختم ہونے کے بعد وہ سبزی خوری کو سرکاری بنانا چاہتا تھا۔ اس بات کا ذکر اس نے گاؤبیلز سے بات چیت کے دوران کیا تھا۔
٭ ہٹلر تمباکو نوشی کے خلاف تھا
ہٹلر نے جوانی میں بہت زایدہ سگریٹ نوشی کی، تاہم طاقت ہاتھ میں آنے کے بعد اس نے اس عادت کو ترک کردیا۔ ہٹلر سگریٹس کو پیسوں کا ضیاع گردانتا تھا، اس کیلئے اس نے اینٹی اسموکنگ مہم بھی شروع کی تھی جس کا آغاز اس نے پبلک ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی پر پابندی سے کیا۔
بشکریہ http://giggag.com


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔