'یہ سرینڈر کی دستاویز ہے': ایران سے ممکنہ امن معاہدے پر ڈیموکریٹس ٹرمپ پر آگ بگولا
امریکی ڈیموکریٹ رہنماؤں نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ متوقع امن معاہدے پر شدید شکوک و شبہات اور تنقید کا اظہار کیا ہے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر برائے کیلیفورنیا ایڈم اسکف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ صدر کہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو گئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ درست ہوں، لیکن ہم یہ بات پہلے بھی سن چکے ہیں، اور اس کے ساتھ متعدد ٹوٹے ہوئے وعدے بھی دیکھ چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے نئی جنگیں شروع کی ہیں لیکن اخراجات کم نہیں کیے، اور اس سے امریکی عوام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب کانگریس مین سیتھ مولٹن نے مجوزہ معاہدے کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بنیادی طور پر ہتھیار ڈالنے کی دستاویز قرار دیا۔
انہوں نے ایم ایس ناؤ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ ایک انتہائی خراب معاہدہ ہے! یہ دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 100 ارب ڈالر ٹیکس دہندگان کا پیسہ پہلے ہی اس جنگ میں خرچ ہو چکا ہے، 14 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں، اور ہمیں ایسا معاہدہ مل رہا ہے جو ایک ایسی آبنائے کو دوبارہ کھول دیتا ہے جو اس جنگ کے شروع ہونے سے پہلے بھی کھلی ہوئی تھی۔ تو یہ کیسے ایک کامیابی ہے؟
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر اتوار کو دستخط ہونے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاہدے کے طے پاتے ہی آبنائے ہرمز کو بھی فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہش مند نہیں ہے اور وہ اب ان ہتھیاروں کی خریداری، تیاری یا کسی اور ذریعے سے حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کر سکے گا۔












