نیتن یاہو اور جے ڈی وینس آمنے سامنے، واشنگٹن خفیہ ملاقات میں کیا ہوا؟

ملاقات محاذ آرائی پر مبنی نہیں تھی، دونوں کے درمیان ورکنگ تعلقات اب بھی فائدہ مند ہیں: امریکی اہلکار
شائع 31 جولائ 2026 02:20pm

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیٹن یاہو کے درمیان منگل کی شام واشنگٹن میں ہونے والی ایک نجی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اپنے باہمی اختلافات پر کھل کر بات کی۔

اسرائیلی اور امریکی حکام کے مطابق ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران اور غزہ جنگ سمیت کئی اہم امور زیرِ بحث آئے۔

امریکی حکام کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقے میں ایسے رہنما رہے ہیں جو غزہ جنگ کے آغاز سے ہی نیٹن یاہو کی پالیسیوں پر تنقیدی مؤقف رکھتے تھے، اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تنقید مزید سخت ہوتی گئی۔

امریکی ویب سائٹ ”ایکزیوس“ کی رپورٹ کے مطابق وینس نے جنگی حکمت عملی اور ایران کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت سامنے آئی۔ نیٹن یاہو اس معاہدے کے مخالف تھے، تاہم انہوں نے عوامی سطح پر اس کی مخالفت نہیں کی اور امید ظاہر کی کہ معاہدہ خود ہی ناکام ہو جائے گا، جو بعد ازاں چند ہفتوں میں ہو بھی گیا۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کئی ماہ سے پس منظر میں موجود تھے۔ نیٹن یاہو، وینس کی جانب سے اسرائیلی حکومت پر ہونے والی عوامی تنقید پر ناخوش تھے، جبکہ وینس کا خیال تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم کے قریبی ساتھی اور ان کے حامی میڈیا ان کے خلاف سیاسی مہم چلا رہے ہیں۔

واشنگٹن میں واقع بلیئر ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کو دونوں رہنماؤں کے لیے اختلافات دور کرنے کا موقع قرار دیا گیا۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ نیٹن یاہو نے وینس سے اسرائیلی حکومت اور ریپبلکن پارٹی میں اسرائیل کی ساکھ کے حوالے سے ان کے حالیہ بیانات پر براہ راست گفتگو کی۔

اسرائیلی عہدیدار کے مطابق، ”یہ ایک صاف گو اور کھلی بات چیت تھی۔“

ایک امریکی عہدیدار نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات میں گفتگو براہ راست اور واضح انداز میں ہوئی۔

اگرچہ نائب صدر کے دفتر نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایک دوسرے امریکی عہدیدار کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اہم امور پر خوشگوار اور تعمیری تبادلہ خیال کیا اور مستقبل میں باہمی مفادات اور مشترکہ اہداف کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مارچ میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ٹیلیفونک گفتگو بھی خاصی کشیدہ رہی تھی، جس میں وینس نے نیٹن یاہو کو یاد دلایا تھا کہ جنگ کے حوالے سے ان کی کئی پیش گوئیاں درست ثابت نہیں ہوئیں، خصوصاً ایران میں عوامی بغاوت کے ذریعے حکومت کے خاتمے کی توقع۔

8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد وینس امریکی انتظامیہ میں ایران کے ساتھ سفارت کاری کے سب سے مضبوط حامی بن کر سامنے آئے۔ ان کا مؤقف رہا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہونا چاہیے، تاہم اس کے لیے طویل فوجی مہم میں الجھنے سے گریز کیا جائے۔

جون میں وینس نے اسرائیلی حکومت کے ان ارکان کو سخت تنبیہ کی تھی جو ایران کے ساتھ معاہدے پر تنقید کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اسرائیلی کابینہ کا حصہ ہوتے تو اپنے واحد طاقتور اتحادی امریکہ پر اس انداز میں تنقید نہ کرتے۔

بعد ازاں جولائی میں معروف پوڈکاسٹر جو روگن کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے وینس نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان امریکہ کو سفارتی عمل سے دور رکھنے اور جنگ جاری رکھنے کے لیے اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔

اسی انٹرویو میں وینس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مرحوم سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کے اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حلقوں سے روابط تھے، تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔