پلاٹ قبضہ کیس:چیف جسٹس کا پولیس کی کارکردگی میں بہتری لانے کا حکم

شائع 12 مئ 2020 08:50am
فائل فوٹو

اسلام آباد:چیف جسٹس گلزار احمد نے پلاٹ قبضہ کیس میں آئی جی اسلام آباد کی سرزنش  کرتے ہوئے پولیس کی کارکردگی میں بہتری لانے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے اسلام آباد میں پلاٹ پر قبضے کے ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے آئی جی اسلام آباد کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے تفتیشی تصدق حسین شاہ کیخلاف محکمانہ کارروائی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے آئی جی کو تفتیشی افسران کی تفتیش میں رہنمائی کیلئے سالانہ کتابچہ چھاپنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قتل،اغواء،قبضہ اور حادثہ کے مقدمات میں تفتیش کا کتابچہ ہونا چاہیئے ، پاکستان بننے کے بعد یہ پہلا سبق تھا جو تفتیشی افسران کو دینا چاہیئےتھا۔

آئی جی اسلام آباد نے تفتیشی کے کام میں خامیوں پر انکوائری چلنے کا مؤقف اپنایا تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سارے تفتیشی افسران کے ساتھ یہی مسئلہ ہے، تفتیشی افسر فیلڈ میں جانے کی زحمت نہیں کرتا، آخر کب ہمارا تفتیش کا طریقہ کار ٹھیک ہوگا۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ ایک مرلہ پلاٹ پر ایک شخص قتل اور 4زخمی ہو گئے،اسلام آباد میں قبضہ مافیا کا راج ہے،کوئی قبضہ مافیا کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا، تفتیشی نے صرف اتنا دیکھنا تھا، زمین کس کی اور قبضہ کرنے کون آیا۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے ملزم صدام حسین کی درخوست ضمانت مسترد کر دی۔