پاکستان کو افغانستان کا امن عزیز ہے:سرتاج عزیز
فائل فوٹوامرتسر: بھارت کے منفی رویے کے باوجود پاکستان نے خطے میں امن کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کی۔
کانفرنس میں نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان پر تنقید کی تاہم پاکستان نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور الزامات پر کان نہ دھرے۔
کانفرنس سے خطاب میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان کا امن عزیز ہے،ہمیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے مثبت اقدامات پر توجہ دینی چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں حالیہ پرتشدد واقعات پرکسی ایک ملک کی طرف انگلی اٹھانا آسان ہے لیکن حل کیلئے مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سرزمین سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کیلئے ہر ممکن تعاون کریں گے۔مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں،مسئلہ افغان عوام کے فیصلوں کے مطابق حل ہونا چاہیئے۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کیلئے چار فریقی گروپ کوشش کرے۔
پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سرتاج عزیز نے کانفرنس میں واضح کر دیا کہ افغانستان میں تشدد الزام لگانے سے ختم نہیں ہو گا نہ ہی پاکستان پر الزام تراشی سے بات بنے گی۔
انہوں نے بتایا کہ سرتاج عزیز کی اشرف غنی سے ملاقات مثبت رہی، امید ہے دونوں حکومتیں مل کر مسائل حل کرینگی۔
عبدالباسط نے واضح کیا کہ بھارت سے مذاکرات ہماری کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے کیونکہ ہمارے ایشوز درست ہیں۔
پاکستان ہائی کمشنر نے مزید کہا کہ بھارت سے مذاکرات عزت کے ساتھ اور برابری کی سطح پر کرنا چاہتے ہیں،مسئلہ کشمیر کمشیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہونے تک جنوبی ایشیا میں امن نہیں آ سکتا۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔