سپریم کورٹ: دس سال بعد عامر کی سزائے موت ختم، بری کا حکم
File Photoاسلام آباد:سپریم کورٹ نے ایک مقدمے میں دس سال سے پابند سلاسل عامر کی سزائے موت ختم کرکے بری کردیا۔
قتل جیسے سنگین ترین جرم میں انصاف کی فراہمی میں تاخیرکا ایک اورواقعہ منظر عام پر آگیا، سپریم کورٹ نے ضلع جہلم کے ایک مقدمہ قتل میں دس سال سے پابند سلاسل عامر کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے اُسے بری کردیا۔
گزشتہ دو ماہ میں عدالت عظمیٰ نے قتل کے مقدمات میں کئی کئی سالوں سے پابند سلاسل اورموت کے منتظرملزمان کوانصاف فراہم کردیا، سہالہ، راولپنڈی کے رہائشی مظہرحسین کو سترہ سال جیل کاٹنے کے بعد چھ اکتوبرکوبے گناہ قراردیا گیا حالانکہ مظہرحسین دو سال قبل ہی وفات پا چکا تھا۔
ایک اور قتل کیس میں چوبیس سال جیل کاٹنے والے قصور کے مظہرفاروق کو پچیس نومبرکو عدالت عظمیٰ سے بے گناہی کی سند ملی، قادر آباد، منڈی بہاؤالدین کے محمد انار کی قسمت بھی گیارہ سال بعد جاگی جب اُسے بھی سپریم کورٹ نے دو دسمبرکوبری کردیا۔
اب ملک کی سب سے بڑی عدالت میں جہلم کے رہائشی عامرکا مقدمہ آیا ، زمین کے تنازعے پر دوہزار چھ میں محمد اسلم کے قتل کے الزام میں ٹرائل کورٹ نے عامر کو سزائے موت سنائی جیسے ہائی کورٹ نے بھی برقراررکھا۔
دوہزار گیارہ میں کیس عدالت عظمیٰ میں آیا، سپریم کورٹ کے جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمہ سنا، عدالت نے کہا کہ جن گواہان کی گواہی پر چار ملزمان کو بری کیا گیا اُسی پرہی ملزم کوسزائے موت سنائی گئی، جو گواہان چار ملزمان کیخلاف قابل اعتبارنہ رہے اُن کو ایک ملزم کیخلاف کیسے درست مانا جائے۔
سپریم کورٹ نے ملزم کیخلاف کمزورشواہد کی بنا پرسزائے موت کالعدم اورملزم عامرکی رہائی کا حکم دے دیا، یوں سپریم کورٹ نے پانچ سالہ تاخیراور مجموعی طور پر دس سال بعد عامر کو بھی انصاف نصیب ہوا ۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔