پاکستان وکلاء کے لیے ’خطرناک ترین‘ ممالک میں شامل فوجداری کے علاوہ جائیداد، طلاق، مہر اوربچوں کے حوالگی سے متعلق کیسز میں بھی وکلاء تشدد کا نشانہ بن جاتے ہیں