Aaj.tv Logo

اسلام آباد:عدالت نےاسلام آباد پولیس کے ہاتھوں نوجوان طالب علم اسامہ ستی کے قتل میں گرفتار پانچوں اہلکاروں کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ جوڈیشل انکوائری کے حکم کے بعد جے آئی ٹی بھی تشکیل دے دی گئی۔

نوجوان اسامہ ستی کے قتل میں گرفتار پولیس اہلکاروں کو کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ نوید خان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

پولیس نے جس پسٹل سے فائر ہوئے وہ برآمد نہ ہونے کا مؤقف اپناتے ہوئے 5روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے 3روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمان کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان اسامہ کے قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری کے حکم کے بعد جے آئی ٹی بھی تشکیل دے دی گئی۔

جے آئی ٹی انسداد دہشتگردی ایکٹ کے سیکشن 19 کے تحت تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی ایس پی صدر سرفراز ورک کریں گے، آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کا بھی ایک ایک نمائندہ شامل ہے،جے آئی جلد از جلد اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔

جوڈیشنل انکوائری کلئےق ورثا ءکو دھرنا دینا پڑا جبکہ ابتدائی طور پر کہا گیا کہ گاڑی نہ روکنے کی وجہ سے پولیس نے پیچھے سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں نوجوان جاں بحق ہوگیا، یہ بات سامنے آئی کہ گاڑی کو آگے سے نشانہ بنایا گیا اور نوجوان کو بھی آگے ہی سے گولیاں لگیں تھیں جبکہ مقدمہ درج اور وقوعہ میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔