Aaj TV News

BR100 4,744 Increased By ▲ 67 (1.43%)
BR30 22,971 Increased By ▲ 921 (4.18%)
KSE100 45,275 Increased By ▲ 457 (1.02%)
KSE30 17,837 Increased By ▲ 195 (1.11%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,241,825 1,400
DEATHS 27,638 41
Sindh 456,343 Cases
Punjab 429,655 Cases
Balochistan 32,875 Cases
Islamabad 105,217 Cases
KP 173,353 Cases

ایسی کونسی چیز ہے جو پرندوں کو اڑنے کے قابل بناتی ہے لیکن مملیوں سوائے چمگادڑ کو نہیں؟ بالآخر اس سوال کا جواب مل گیا ہے۔

یروشلم پوسٹ کےمطابق ہیبریو یونیورسٹی آف یروشلم میں کی جانے والی تحقیق میں اس بات کاسراغ لگالیاگیا ہے کہ ایسی کونسی خاص چیزہے جس کے سبب پرندے فضاء میں اڑ سکتے ہیں لیکن چونکہ وہ چیز انسان اور دیگر جانور میں نہیں ہوتی اس لئے یہ جاندار نہیں اڑ پاتے۔ یہ اصل میں 'مخصوص مالیکیولرخصوصیات' ہوتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق جس طرح مملیوں کے چلنے کی صلاحیت ریڑھ کی ہڈی کےجینیاتی طورپربنےہونے کی وجہ سے ہوتی ہےاسی طرح پرندوں کےاڑنے کی صلاحیت بھی ریڑھ کی ہڈی کی وجہ سےہے۔اڑنےکےلئےجو خصوصیت درکار ہوتی ہے وہ ephrin-B3 مالیکیول کی جینیٹک کوڈنگ ہوتی ہےجو پرندوں کو اڑنے کی صلاحیت دیتی ہے۔

تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی کہ پرندوں میں اس مالیکیول کا جینیٹک کوڈ رینگنے والے جانوروں(ریپٹائلز) اور مملیوں کی نسبت بنیادی طور پر ہی مختلف ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک چوہا جس کے ephrin-B3 میں تبدیلی کی گئی تھی، اس نے پرندوں کی طرح دائیں اور بائیں اچھل کر حرکت کی۔ اس بات نے سائنسدانوں کی اس تھیوری کو مضبوط کیا کہ وقت کے ساتھ جینیاتی تبدیلیوں نے پرندوں کی حرکات کے طرز کا تعین کیا ہے جیسے کہ ایک ساتھ دونوں پر پھڑپھڑانا جو انہیں پرواز کی صلاحیت دیتا ہے۔