Aaj TV News

BR100 4,744 Increased By ▲ 67 (1.43%)
BR30 22,971 Increased By ▲ 921 (4.18%)
KSE100 45,275 Increased By ▲ 457 (1.02%)
KSE30 17,837 Increased By ▲ 195 (1.11%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,241,825 1,400
DEATHS 27,638 41
Sindh 456,343 Cases
Punjab 429,655 Cases
Balochistan 32,875 Cases
Islamabad 105,217 Cases
KP 173,353 Cases

لاہور:پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا،ابتدائی اندازےکےمطابق صوبے کےبجٹ کامجموعی حجم2600ارب کےلگ بھگ ہوگا،ٹیکس وصولی کا تخمینہ241ارب روپےلگایاگیاہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کلئےا سالانہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 560 ارب کے لگ بھگ ہو گا، ترقیاتی بجٹ کا 35 فیصد جنوبی پنجاب کیلئے مختص ہو گا جبکہ سالانہ ترقیاتی بجٹ میں لاہور کیلئے 62 ارب روپے کا ترقیاتی پیکج تجویز کیا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال میں 2 کھرب 65 ارب روپے جاری ترقیاتی اسکیموں جبکہ ایک کھرب 30 ارب روپے نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کرنے کی تجویز ہے،سالانہ ترقیاتی پروگرام میں صحت کلئے سب سے زیادہ رقوم مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ا سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر و میڈیکل ایجوکیشن کیلئے 100 ارب، پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کئیر کیلئے 41 ارب 66 کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے۔

اسکول ایجوکیشن 35 ارب، ہائیر ایجوکیشن کیلئے 10 ارب 24 کروڑ،ا سپیشل ایجوکیشن کے ترقیاتی منصوبوں پر ایک ارب روپے، فراہمی و نکاسی آب کے منصوبوں کیلئے 58 ارب 24 کروڑ اور آبپاشی کیلئے 44 ارب خرچ کرنے کی تجویز ہے۔

زراعت کیلئے 23 ارب، مواصلات کے منصوبوں کیلئے 28 ارب، گورننس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے 18 ارب 86 کروڑ، محکمہ داخلہ کیلئے ایک ارب 90 کروڑ جبکہ توانائی کے منصوبوں کیلئے 12 ارب 88 کروڑ رکھے جائیں گے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس وصولی کا تخمینہ 241 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں نئے ٹیکسوں کی بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر فوکس کیا جائے گا تاہم دس سال سے پرانی گاڑیوں پر دی گئی 25 فیصد وہیکلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز ہے۔