Aaj.tv Logo

افغان طالبان نے شمالی افغانستان کے شہر فیض آباد پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ یہ شدت پسندوں کا ایک ہفتے سے کم وقت میں نویں صوبائی دارالحکومت پر قبضہ ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صوبائی اسمبلی کے ایک رکن نے طالبان کے قبضے کی تصدیق کی ہے۔ ذبیح اللہ عتیق کے مطابق، ’گذشتہ رات سیکیورٹی فورسز جو کئی دنوں سے طالبان سے لڑ رہی تھیں، شدید دباؤ میں آ گئیں۔ طالبان نے اب شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔ دونوں فریقوں کو بھاری نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ روز افغان طالبان نے ملک کے آٹھویں صوبائی دارالحکومت پل خمری پر قبضہ کیا تھا۔ پل خمری بغلان صوبے کا دارالحکومت ہے۔ یہ صوبہ کابل کے شمال میں واقع ہے۔

بغلان کی صوبائی کونسل کے ایک رکن معمور احمد زئی اور ایک آرمی افسر نے قبضے کی تصدیق کی جبکہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی پل خمری پر قبضے کی تصدیق کی تھی۔

اس سے قبل منگل کو ہی طالبان صوبائی دارالحکومت فراہ پر قابض ہوئے۔

فراہ کے صوبائی کونسل کی رکن شہلا ابوبر نے بتایا کہ ’اس سہ پہر سکیورٹی فورسز کے ساتھ مختصر لڑائی کے بعد طالبان فراہ شہر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے گورنر کے دفتر اور پولیس ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کر لیا ہے۔‘

افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان لڑائی کی وجہ سے ہزاروں شہری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور انہوں نے کابل سمیت محفوظ مقامات کا رخ کیا ہے۔

طالبان جنگجوؤں کی نظریں اب شمال کے سب سے بڑے شہر مزار شریف پر ہیں، جس پر قبضہ ایک ایسے خطے میں حکومتی کنٹرول کے مکمل خاتمے کا اشارہ دے گا، جو روایتی طور پر طالبان مخالف رہا ہے۔

حکومتی فورسز طالبان کے خلاف قندھار اور ہلمند میں بھی برسرپیکار ہیں۔

دوسری جانب منگل کو امریکی صدر جو بائیڈن نے افغان رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑیں۔

جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’افغان رہنماؤں کو متحد ہونا ہوگا۔ افغان فوجیوں کی تعداد طالبان سے زیادہ ہے اور انہیں لڑنا چاہیے۔‘ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’انہیں اپنے لیے لڑنا ہے، اپنی قوم کے لیے لڑنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ واشنگٹن نے 20 برسوں میں ایک ٹریلین ڈالر خرچ کیے ہیں اور ہزاروں فوجیوں کو کھو دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ افغان فورسز کو اہم فضائی مدد، خوراک، سامان اور تنخواہیں فراہم کرتا رہے گا۔