Aaj.tv Logo

شہنشاہِ کامیڈی عمرشریف عارضہ قلب کا شکار ہونے کے بعد امریکا علاج کے لیے روانہ ہوئے، دوران سفر طبیعت کی خرابی کے باعث ائیر ایمبولینس نے جرمنی میں‌ ہنگامی لینڈنگ کی اور جرمنی کے مقامی اسپتال میں‌ ہی ان کا انتقال ہوگیا۔

عمرشریف کی موت پاکستان سمیت ہر اس انسان کے لیے دکھ اور صدمے کا باعث ہے جو اردو زبان سے آشنا ہے، تاہم یہاں المیہ ایک عہد کے اختتام کا نہیں بلکہ اس روایتی سستی اور مجرمانہ غفلت کا ہے جو مبینہ طور پر عمر شریف کے علاج میں کوتاہی کی وجہ بنی۔

عمرشریف تو چلے گئے، لیکن بہت سے سوالات چھوڑ گئے۔ انہوں نے اس فرسودہ اور بدترین سسٹم کو بے نقاب کردیا۔

9 ستمبر 2021 کو عمر شریف نے ایک ویڈیو پیغام میں نے اپنے علاج کے لیے وزیر اعظم عمران خان سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کے مطابق انہیں بہترعلاج کے لیے بیرون ملک جانا چاہیے۔

دو روز تک صرف زبانی کلامی مدد کی جاتی رہی، یعنی وفاق کی طرف سے کوئی باقاعدہ اقدامات نہیں کئے گئے۔ دو دن تک سندھ حکومت اور وفاق پیسوں پر لڑتے رہے۔

عمر شریف کو امریکا منتقل کرنے لے لیے ایئر ایمبولینس کی ضرورت تھی، سندھ حکومت نے ائیر ایمبولنس کمپنی کو ادائیگی تو کردی۔ لیکن سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کا کہنا تھا کہ انہیں ائیر ایمبولینس سے متعلق درخواست موصول نہیں ہوئی ہے اور بغیر درخواست کے وہ کچھ نہیں کرسکتے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے عدم تعاون سے دو دن تک ائر ایمبولینس پاکستان سے اُڑان نہ بھر سکی اور یو دو مزید دن ضائع ہوگئے۔

جو ایئر ایمبولینس حکومت نے حاصل کی اس کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ وہ رات کے اندھیرے میں لینڈ اور ٹیک آف کی صلاحیت سے محروم تھی جو جرمنی پہنچ کر خراب ہوگئی،اس طرح مزید تین دن ضائع کردیے گئے۔

دیکھا جائے تو عمر شریف کو سات سے آٹھ روز پہلے علاج کے لیے امریکا پہنچ جانا چاہئے تھا، حالانکہ ڈاکٹرز نے بتایا بھی تھا کہ عمر شریف کی حالت تشویشناک ہے، تاخیر جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ پھر بھی مجموعی طور پر پندرہ روز کی تاخیر ہوئی اور یہ وہی روز تھے جن کے حوالے سے ڈاکٹرز پہلے ہی آگاہ کرچکے تھے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسے لیجنڈ فنکار کو آخری ایّام میں اپنے علاج کے لیے مدد کی اپیل کیوں کرنی پڑی؟ ریاست کو پتا ہونا چاہئے کہ ایک معروف فنکار جو پاکستان کی دنیا بھر میں پہچان ہے وہ کس حال میں ہے۔

جانا تو بہرحال سب نے ہی ہے، عمر شریف بھی چلے گئے۔ لیکن جاتے جاتے اس ملک کے بوسیدہ نظام کو بے نقاب کرگئے۔