Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,283,886 411
DEATHS 28,704 7
Sindh 475,097 Cases
Punjab 442,876 Cases
Balochistan 33,471 Cases
Islamabad 107,601 Cases
KP 179,888 Cases

سابق افغان انٹیلی جنس اور فوجی اہلکاروں نے داعش میں شمولیت اختیار کرلی، دعویٰ

03 نومبر 2021
شمولیت اختیار کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے لیکن اس کی تصدیق اہم ذمہ دار افراد نے بھی کی ہے۔ (تصویر: ایسوسی ایٹڈ پریس)
شمولیت اختیار کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے لیکن اس کی تصدیق اہم ذمہ دار افراد نے بھی کی ہے۔ (تصویر: ایسوسی ایٹڈ پریس)

امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے کنٹرول اور امریکی و اتحادی افواج کے انخلا کے بعد سے افغان انٹیلی جنس کے متعدد سابقہ اہلکاروں نے شدت پسند تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے ایک سابق عہدیدار نے اس کی تصدیق کی ہے اور افغان فوج کے ایک سابق افسر نے داعش کی خراساں شاخ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

سابق افغان حکومت کے کمانڈوز اور انٹیلی جنس اہلکار داعش کا حصہ بن رہے ہیں، اور انٹیلی جنس اور ملٹری آپریشن سے متعلق اہم مہارتیں داعش کو فراہم کر رہے ہیں۔

داعش میں شمولیت اختیار کرنے والا افغان فوج کا سابقہ افسر پکتیا کے صدر مقام گردیز میں واقع افغان فوج کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ڈپو پہ ذمہ دار افسر تھا اور ایک ہفتے قبل ہی طالبان کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں مارا گیا ہے۔

فوج کے سابق عہدیدار کے مطابق افغان انٹیلی جنس اور فوج کے ایسے کئی اہلکار ہیں جنہیں وہ جانتا ہے وہ اب داعش خراساں میں شامل ہو چکے ہیں۔

امریکی اخبار کی خصوصی رپورٹ کے مطابق نیشنل ڈائریکٹوریٹ فار سیکورٹی کے زیر انتظام جاسوسی ایجنسی کے سابق سربراہ رحمت الله نبيل کا کہنا ہے کہ کچھ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے بعض سابق اہلکاروں کے لیے داعش تنظیم بہت پرکشش ہے کیونکہ ان کے خیال میں صرف وہی طالبان کی مخالف ہے اور انہیں اپنے اندر شامل بھی کرسکتی ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق فی الحال شمولیت اختیار کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے لیکن اس کی تصدیق اہم ذمہ دار افراد نے بھی کی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ داعش کی جانب سے متعدد حملوں کی ذمہ دار قبول کی گئی تھی۔ ان حملوں میں قندوز کا وہ دھماکہ بھی شامل ہے جس میں تقریباً 100 انسانی جانوں کو نقصان ہوا تھا۔