Aaj TV News

BR100 4,487 Increased By ▲ 14 (0.32%)
BR30 17,781 Increased By ▲ 186 (1.06%)
KSE100 43,847 Decreased By ▼ -7 (-0.02%)
KSE30 17,049 Increased By ▲ 44 (0.26%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,287,703 310
DEATHS 28,793 9
Sindh 477,119 Cases
Punjab 443,610 Cases
Balochistan 33,514 Cases
Islamabad 107,989 Cases
KP 180,471 Cases

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے نورمقدم قتل کیس میں ملزم کے وکیل کی جانب سے مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سشنس کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی نے کی ، مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت دیگر تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

ملزمان کے وکلاء اسد جمال،اکرم قریشی ، شہزاد قریشی، سجاد بھٹی، میاں سیف اللہ اور بشارت اللہ عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل اسد جمال کی جانب سے سی سی ٹی وی ویڈیو مکمل فراہم کرنےکی درخواست پر سماعت مکمل کرلی گئی جس پر عدالت نے مکمل ویڈیو فراہم کرنے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

وکیل اسد جمال نے استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مکمل ویڈیو فراہم کرنےکا حکم دیا ہے جبکہ پولیس کی جانب سے ویڈیو کے صرف چند کلپس فراہم کئے گئے ہیں۔

سماعت کے دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر سے کیل ذوالقرنین سکندر سلیم کی جانب سے وکالت نامے پر دستخط لینے کی کوشش کی گئی جس پر ظاہر جعفر آمادہ نہ ہوا اور کہا کہ میں وکالت نامے پر دستخط نہیں کروں گا ، وکیل سے الگ ملنا چاہتا ہوں۔

استغاثہ کے گواہ کمپیوٹر آپریٹر محمد جابر کے بیان پر وکلاء نے جرح مکمل کرلی۔

دوران سماعت مرکزی ملزم ظاہرجعفر نے بار بار بولنے کی کوشش کی جس پر عدالت نے پولیس کو ملزم کو واپس لے جانے کا حکم دے دیا۔

بعدازاں عدالت نے نور مقدم قتل کیس کی سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کر دی ۔