Aaj.tv Logo

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کی مدد کو مذہبی ذمہ داری قرار دے دیا اور کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال انتہائی سنگین ہے، بینکنگ کا نظام جمود کا شکار ہے، دنیا کو افغان ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے،امید ہے او آئی سی پرامن افغانستان کیلئے اپنا کردار ادا کرے گی۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی )کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس سے کلیدی خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے معززمہمانوں کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور بولے کہ کانفرنس میں شریک تمام مہمان افغانستان کی صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہیں، جتنی مشکلات افغانستان کے عوام نے اٹھائیں کسی اور ملک نے نہیں اٹھائیں، افغانستان کے حالات کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا ہے، افغان عوام کی مدد کیلئے فوری اقدامات کرنے ہوں گے،یہ افغان عوام کی بقاء کا معاملہ ہے۔

وزیراعظم نے افغانستان میں خواتین اور انسانی حقوق کے معاملات حساسیت سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک مستحکم افغانستان ہی خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر بھی کھل کرگفتگو کرتے ہوئے اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے مل کر کوشش کرنے پر زور دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ فلسطین اور کشمیری عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، نائن الیون کے بعد اسلامو فوبیا کی لہر میں شدت آئی، اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنا حقیقت کے منافی ہے،ہمیں اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنا ہو گا۔

وزیراعظم نے اسلاموفوبیا پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام مخالف پروپیگنڈے کے تدارک کیلئے ہمیں ایک مؤثر آواز بننا ہے،رحمت للعالمین اتھارٹی کے قیام کا مقصد ہی نبی کریمﷺکی تعلیمات سے دنیا کو روشناس کرانا ہے ۔