Aaj News

بدھ, مئ 29, 2024  
20 Dhul-Qadah 1445  

او آئی سی اجلاس: مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے جرائم پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے، وزیر خارجہ

س سال امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی گئی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ٹھوس اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔
شائع 21 مارچ 2022 09:34pm
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی۔  فوٹو — فائل
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی۔ فوٹو — فائل

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انسانی حقوق کے جرائم کے لیے بھارت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

تفصیالت کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کونسل کے 48ویں اجلاس کے موقع پر ریاستہائے متحدہ امریکا کی انڈر سیکریٹری محترمہ عذرا زیا نے وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں انہوں نے اجلاس کی میزبانی پر وزیر خارجہ کو مبارکباد پیش کی جبکہ ملاقات میں پاک، امریکا دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان، اپنی توجہ جغرافیائی اقتصادی ترجیحات کی جانب مرکوز کیا ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان وسیع البنیاد تعلقات، خطے میں امن، ترقی اور سلامتی کو فروغ دینے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور اعلیٰ سطحی کانگریسی وفود کے حالیہ تبادلوں سے پارلیمانی روابط مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

شاہ محمود نے کہا کہ اس سال امریکا اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی گئی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ٹھوس اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔

وزیر خارجہ نے ریاستہائے متحدہ امریکا کی انڈر سیکریٹری برائے شہری سلامتی، جمہوریت اور انسانی حقوق، محترمہ عذرا زیا سے ملاقات کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کا تسلسل، عالمی برادری کی فوری توجہ کا متقاضی ہے اور اس میں ہونے والے انسانی حقوق کے جرائم کے لیے بھارت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

شاہ محمود قریشی نے امریکی انڈر سیکریٹری کو بھارت سے پاکستان کی سرزمین میں فائر کیے گئے مبینہ"حادثاتی" فائر کے بارے میں بھی آگاہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی تعاون مثبت نتائج کیلئے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے آنے والے دنوں میں دو طرفہ تعلقات کے استحکام کے لیے اعلیٰ سطحی تبادلوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکا دونوں کو افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

او آئی اجلاس پر وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس وقت عالمی برادری بالخصوص مسلم امہ کو درپیش سیاسی سماجی و اقتصادی چیلنجز کے پس منظر میں یہ اجلاس خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان

IOK

OIC summit