Aaj.tv Logo

تیل کا جھٹکا (آئل شاک) کسے کہتے ہیں؟

23 مارچ 2022
دنیا کی بڑی ممالک کی معیشتوں کی بنیاد ہل گئیں تھیں۔
دنیا کی بڑی ممالک کی معیشتوں کی بنیاد ہل گئیں تھیں۔

روس کے یوکرین پر حملے کے بعد روسی تیل پر عائد پابندیوں کی وجہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے فرانسیسی وزیر برائے اقتصادیات اور مالیات برونو لی مائر نے کہا کہ یورپ میں توانائی کا بحران 1973 کے ’آئل شاک‘ جیسا شدید ہو سکتا ہے۔

چند دہائیوں پہلے سنہ 1973 میں (عرب اسرائیل) جنگ کے دوران خلیج فارس سے تیل کی برآمدات کرنے والی ریاستوں نے امریکا سمیت دیگر مغربی ممالک کو تیل کی فروخت کم کردی تھی۔

تاہم تیل کی برآمدات میں کمی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 4 گنا اضافہ ہوگیا تھا جبکہ دنیا کو شدید مندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس سلسلے میں سنہ 1974 میں امریکا کے وزیر خارجہ ہینری کیسنجر تیل فروخت سے پابندی ہٹانے کیلئے پاکستان کے اُس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے مذاکرات کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں 4 گنا اضافے نے ایسا بحران پیدا کردیا تھا جس سے دنیا کی بڑی ممالک کی معیشتوں کی بنیاد ہل گئیں تھیں۔

جب سنہ 1973 میں (عرب اسرائیل) جنگ میں شام اور مصر نے اسرائیل پر حملہ کیا تو امریکی صدر نکسن نے اسرائیل کی مدد کےلئے فوجی سازوسامان بھیجنا شروع کردیا۔

تاہم اسی صورتحال کے پیش نظر روس بھی اپنے عرب اتحادیوں کو اسلحہ فراہم کررہا تھا جبکہ اسی دوران عرب ریاستوں نے امریکا سمیت دیگر یورپی ممالک کو تیل کی فراہمی بند کی، تو تیل کا شدید بحران پیدا ہوگیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی سعودی عرب اوراوپیک نے تیل کی پیداوار میں 5 فیصد کمی کا اعلان کرتے ہوئے تیل کی سپلائی بند کردی تھی۔

اسی وجہ سے سنہ 1973 میں اس صورتحال کو تیل کا جھٹکا (آئل شاک) کے نام سے جانا جاتا ہے۔