Aaj.tv Logo

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے میں ایک پیش امام نے فیصلہ کیا ہے کہ خواتین کے بازار جانے پر پابندی عائد کی جائے گی۔

تاہم انہوں نے یہ فیصلہ ممکنہ طور پر ایک جعلی اعلامیے کے تحت کیا ہے۔

اس فیصلے کا اعلان خار بازار کی ایک مسجد میں پیش امام احسان الحق نے نماز کے بعد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی عورت بازار میں نظر آئی، تو ان کے بھائی یا شوہر پر 20 ہزار روپے کا جرمانہ ہوگا۔ جبکہ دکان کو بھی سیل کردیا جائے گا۔

ایک ویڈیو میں پیش امام کو یہ کہتے ہوا سنا جا سکتا ہے کہ “ہم حکومت کو چلینج نہیں کر رہے، یہ ہمارا رواج ہے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے بارے میں اسسٹنٹ کمشنر اور نائب کمشنر کو بتانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ شریعت اور علاقے کے طور طریقوں کے خلاف ہے۔

تاہم پیش امام مفتی احسان الحق نے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کہ“ آپ سب کو یہ منظور ہے؟“ تو لوگوں نے جواب دیا کہ “جی منظور ہے”۔

عمائدین نے مذکورہ پابندی کی تردید کردی

تحصیل اتمان خیل ارنگ میں طالبنائزیشن کے دور میں بھی ایسے واقعات دیکھنے میں نہیں آئے۔

وہاں کے عمائدین نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جس نوٹس کا کاپی سوشل میڈیا پر گردش رہی ہے اس میں گرگری لکھا ہے جو کہ دِیر میں ایک چھوٹا سا علاقہ ہے۔

عمائدین کا کہنا تھا اسی نوٹس کو دوبارہ ری ڈیزائن کرکے ارنگ توحید آباد کو شامل کیا گیا ہے جو کہ پلانٹڈ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خار کی مسجد کے پیش امام مفتی احسان الحق نے سنی سنائی پر فیصلہ دے دیا۔

ایف ایم ریڈیو پر خواتین کی کالز کرنے پر پابندی کا معاملہ

اس سے قبل ماموند میں ایف ایم ریڈیو پر خواتین کے کالز کرنے پر پابندی لگائی گئی تھی جبکہ بعد میں پتہ چلا کہ وہ ایک سیاسی مسئلہ تھا۔

ایف ایم ریڈیو شمال سابق رکن قومی اسمبلی اخونزادہ چٹان کا تھا اور اس کو سیاسی نقصان پہنچانے کے لئے یہ معاملہ بنایا گیا تھا۔

تاہم باجوڑ کے کئی علاقوں میں خواتین کا خریداری کے لئے باہر آنا روایتی طور پر برا سمجھا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کے بعد آئی ڈی پیز کی واپسی پر ماہانہ وظائف کے لیے رقم دی جاتی ہے، جن میں صدائے امن پروگرام کی طرف سے ماہانہ ملنے والے 2500 روپے شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ہی بینظیر انکم پروگرام، احساس کفالت پروگرام کے لئے طلبہ وظائف کے حصول کے لئے خواتین گھروں سے باہر آتی ہیں۔

خیال رہے کہ ضلع خیبر اور باجوڑ میں جرگے میں ان وظائف کے حصول کے لئے خواتین کے باہر آنے پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مردوں کو یہ رقوم دے دیں کیونکہ خواتین کا باہر نکلنا روایتی طور پر ٹھیک نہیں لیکن بعد میں ضلعی انتظامیہ کی مداخلت سے وہ خاموش ہو گئے۔