Aaj News

پاکستان کو سلام: 20 سال بعد ملنے والی بھارتی خاتون کوایک 'وعدے' نےباندھے رکھا

دُبئی میں ملازمت کا جھانسہ دے کر پاکستان اسمگل کردی جانے والی حمیدہ بانو کی کہانی
اپ ڈیٹ 07 اگست 2022 09:56pm

Greetings to Pakistan: An Indian woman who met after 20 years was bound by a ‘promise’ | Aaj News

یہ کہانی ہے 20 سال قبل بھارت سے دُبئی میں ملازمت کا جھانسہ دے کر پاکستان اسمگل کی جانے والی حمیدہ بانو کی، جنہوں نے 2 دہائیوں بعد سوشل میڈیا کی بدولت اپنے بچوں سے " ڈیجیٹل ملاقات " کی۔

بھارت میں موجود حمیدہ کے اہل خانہ کو اُن کا سُراغ ایک یو ٹیوب ویڈیو کی مدد سے ملا جو پاکستان کے صوبائی دارالحکومت کراچی سے ایک مقامی مسجد کے پیش امام اور یوٹیوبر ولی اللہ معروف کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی تھی۔

جہاز دبئی ائرپورٹ توپہنچا لیکن ہم نیچے نہیں اُترے

اس داستان کا آغاز 2002 میں ہوا جب ایسٹ ممبئی کُرلا قریش پور کی رہائشی حمیدہ کو ایک ایجنٹ نے دبئی میں کھانا پکانے کی ملازمت کا جھانسہ دے کر پاکستان اسمگل کردیا، خاتون ایجنٹ نے انہیں 20 ہزار کی ادائیگی کا کہا تھا، حمیدہ کا بیرون ملک ملازمت کا یہ پہلا موقع نہیں تھا بلکہ وہ ماضی میں 9 سال تک قطر، سعودی عرب اور دبئی میں کھانا پکانے کا کام کرچکی تھیں اور اپنے 3 بچوں کی شادیاں بھی اسی آمدن سے کی تھیں۔

شوہر کی وفات کے بعد 4 بچوں کی کفالت کرنے والی حمیدہ کی یادداشت میں محفوظ ہے کہ ' پی آئی اے ' کا جہاز انہیں دبئی ائرپورٹ تو لے کر پہنچا تھا مگر نیچے اتارے بغیر انہیں وہیں سے پاکستان روانہ کردیا گیا۔ پاکستان میں انہیں ائیرپورٹ کے اس دروازے سے باہر نہیں لے جایا گیا جہاں ' تلاشی' لی جاتی بلکہ ایک دوسرے دروازے سے نکال کر حیدرآباد پہنچا دیا گیا جہاں 3 ماہ تک ایک آدمی انہیں ناکافی کھانا دے جاتا جو ایک وقت کھالیا جائے تو دوسرے وقت بھوکا رہنا پڑتا۔

وعدہ نہیں کیا تو وطن واپس بھی نہ جاسکی

آج ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے حمیدہ نے بتایا کہ انہیں ماضی میں باہر ( بیرون ملک ) آنے جانے کے سبب یہ شُبہ بھی نہیں گزرا کہ وہ "ہیومن ٹریفکنگ" کا شکار ہونے جارہی ہیں، پاکستان کے شہر حیدرآباد میں 3 ماہ کی غیرقانونی قید کے بعد بالآخر ایک کھلی کھڑکی سے فرار ہوکر کراچی پہنچنے والی حمیدہ بانو نے ابتدائی عرصہ ایک مزار پرگزارا۔

بعد ازاں ایک ریڑھی والے نےانہیں دوسری شادی کی پیشکش کی جو پہلی اہلیہ کے انتقال کے بعد اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور انہیں روٹی پکا کردینے کے لیے حمیدہ سے نکاح کا خواہش مند تھا، 3 سال قبل عالمی وبا کورونا کا شکار ہوکر شوہر بھی چل بسا جس کے بعد اب حمیدہ اپنے سوتیلے بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

شوہرسے متعلق سوال پر حمیدہ نے بتایا کہ وہ جب تک زندہ رہے میرا خیال رکھا، لیکن بھارت جانے کی بات کرتی تو وہ شرط رکھ دیتے کہ تم واپس ضرور آؤ گی، لیکن وہ خود ایسا نہیں چاہتی تھیں اس لیے کبھی وعدہ کیا نہ اپنے وطن واپس جا پائیں۔

پاک بھارت تعلقات 'مدد' میں رُکاوٹ

اس دوران بھارت میں موجود اپنے بچوں سے ملنے کی تڑپ نے حمیدہ کو ہمیشہ بےقرار رکھا، شوہرکے گزرنے کے بعد اس تڑپ میں مزید اضافہ ہوا تو انہوں نے اپنے پڑوس سے مدد لی۔ پڑوسی ہونے کے سبب ولی اللہ معروف کی والدہ حمیدہ کی دوست بن چکی تھیں جنہیں وہ اکثر کہتی تھیں کہ اپنے بیٹے سے کہیں میری مدد کرے، لیکن سوشل میڈیا کی مدد سے کئی اسمگل کی جانے والی بنگلہ دیشی خواتین کی فیملیز کی تلاش میں مدد کرنے والے ولی اللہ اس معاملے میں پڑنے سے ہمیشہ ہچکچاتے جس کی وجہ پاک بھارت تعلقات میں سرد مہری تھی۔

ولی اللہ حمیدہ بانو کو بچپن سے جانتے ہیں اور ان کی چھوٹی سی دکان سے چیزیں بھی خریدتے تھے، آخر کار انہوں نے حمیدہ کی ویڈیو بنا کر یوٹیوب پراپ لوڈ کی جسے کسی نے ممبئی سے تعلق رکھنے والے صحافی خلقان شیخ کو ٹیگ کیا، وہاں سے یہ ویڈیو خلقان نے اپنے پلیٹ فارم پرشیئر کی جسے حمیدہ بانو کے نواسے نے دیکھا اوراپنی والدہ یاسمین کو بتایا کہ اس ویڈیو میں ہم سب کے نام لینے والی یہ خاتون نانی ہیں۔

حمیدہ کی فیملی نے خلقان سے رابطہ کیا جس کے بعد دونوں جانب سے کنفرمیشن کے بعد ولی اللہ معروف نے ویڈیو کال ملا کرحمیدہ کی بات ان کے بچوں سے کروائی۔

پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن نے ولی اللہ معروف سے رابطہ کر کے اس کیس کی تمام ترتفصیلات حاصل کرنے کے بعد اُن سے درخواست اور ضروری دستاویزات جمع کروانے کا کہا، جس کے بعد حمیدہ کی وطن واپسی کے مرحلے کا آغاز ہوچکا ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔

دُعا کرتی ہوں دادی کبھی نہ جائیں

حمیدہ بانو کے جذبات سے بے خبر ان کی 10 سالہ پوتی سکینہ کی خواہش ہے کہ اس کی دادی کبھی بھی اپنے وطن واپس نہ جائیں کیونکہ وہ اس سے بہت پیار کرتی ہیں۔ سکینہ کا کہنا ہے کہ، "میں روز رات کو اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگ کر سوتی ہوں کہ میری دادی نہ جائیں، میں ایسا نہیں چاہتی۔"

پاکستان کو سلام ۔۔۔ واپس نہیں آؤں گی

حمیدہ کا کہنا ہے کہ، "اتنے سال عید شب برات پربھی اپنے بچوں کو یادکرتے ہوئے نئے کپڑے تک نہیں پہنے لیکن اب جب ان سے بات ہوگئی ہے تو خوشی کے مارے سو پارہی ہو نہ ہی کچھ کھایا جارہا ہے، میں بھارت جانے کی اُمید بالکل چھوڑ چکی تھی اورسوچتی تھی کہ شاید مجھے میری موت پاکستان لے کرآئی ہے۔"

"انڈیا واپس جانے کے بعد کبھی پاکستان نہیں آؤں گی"، ان الفاظ کی ادائیگی کے بعد حمیدہ نے کہا کہ انہیں اپنے سوتیلے بچوں سے بھی بہت پیار ہے اور وہ ان کے لئے ہمیشہ دُعاگو رہیں گی، رابطہ بھی رکھیں گی لیکن اپنے جگرکے ٹکڑے مل جانے کے بعد اب وہ کبھی پاکستان نہیں آئیں گی۔

بھارت کے لیے 15 اگست کا 'تحفہ'

حمیدہ بانو کے سوتیلے بیٹے اعجاز نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہوئے بتایا کہ ، "جب والدہ (حمیدہ ) ہمارے گھرآئیں تو میری شادی ہوچکی تھی، پھر اللہ نے مجھے 14 اگست کو بیٹی عطا کی جو ہمارے لیے تحفہ تھا اب میری خواہش ہے اور میں پاکستان و بھارت کے حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ والدہ کو 15 اگست والے دن ان کے وطن واپس بھیجیں، یہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے لیے 15 اگست (یوم آزادی ) کا تحفہ ہوگا۔

اعجاز نے حمیدہ کے ہاتھ کے پکائے کھانوں کی بےحد تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ہاتھ میں بہت زیادہ ذائقہ ہے جسے وہ کبھی نہیں بُھلا پائیں گے۔

دوسری جانب بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق حمیدہ بانو کی فیملی نے ان سے رابطے کی بہت کوشش کی لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ ان کی بیٹی یاسمین کا کہنا ہے کہ والدہ پہلے بیرون ملک جاتیں تو رابطے میں رہتیں لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا تھا، طویل انتظار کے بعد متعلقہ ایجنٹ سے بھی رابطہ کیا جس نے کہا کہ وہ ٹھیک ہیں لیکن طفل تسلیوں کے بعد پھر اچانک سے وہ ایجنٹ ہی غائب ہوگئی۔

حمیدہ بانو کی فیملی اب بےچینی سے ان کے وطن واپس پہنچنے کی منتظر ہے۔

آج ڈیجیٹل کی جانب سے کوشش کے باوجود پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کا موقف جاننے کے لیے رابطہ نہ ہوسکا۔

Comments are closed on this story.

مقبول ترین