Aaj News

روم جل رہا تھا تو کیا نیرو واقعی بانسری بجا رہا تھا؟

کیا نیرو واقعی اپنی اس بری شہرت کا مستحق ہے؟
شائع 28 ستمبر 2022 10:06pm
<p>تصویر بزریعہ وکی پیڈیا</p>

تصویر بزریعہ وکی پیڈیا

رومن شہنشاہ نیرو کا شمار رومی سلطنت کے سب سے بدنام زمانہ حکمرانوں میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو یہ بانسری بجا رہا تھا۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہوا؟ اور کیا نیرو واقعی اپنی اس بری شہرت کا مستحق ہے؟

اس سوال کا جواب جاننے کیلئے ہمیں ماضی کے دریچوں میں جھانکنا ہوگا۔

سب سے پہلے تو یہ جان لینا ضروری ہے نیرو نے کبھی بانسری نہیں بجائی، کہاوت میں بانسری کا ذخر تاریخ کے کئی ادوار اور ثقافتوں سے گزرنے کا نتیجہ ہے۔

برٹش میوزیم میں ”نیرو پروجیکٹ“ کو تیار کرنے والی ماہر آثار قدیمہ فرانسسکا بولوگنا کے مطابق، نیرو 37 عیسوی کی 15 دسمبر کو پیدا ہوا اور نیرو روم کا پانچواں شہنشاہ اور سلطنت کی بنیاد رکھنے والے جولیو کلاڈیئنز خاندان کا آخری بادشاہ بنا۔

 تصویر بزریعہ میوزیم آف نیرو
تصویر بزریعہ میوزیم آف نیرو

نیرو صرف دو سال کا تھا جب اس کی والدہ ایگریپینا دی ینگر، جن کے پردادا آگسٹس سلطنت کے پہلے شہنشاہ تھے کو شہنشاہ کیلیگولا نے جلاوطن کر دیا تھا۔

نیرو تین سال کا ہوا تو اس کے والد گنیوس دومیتئیس ایہانوباربس کا انتقال ہو گیا، جو اسے اپنی خالہ کی دیکھ بھال میں چھوڑ گئے۔

بولوگنا نے بتایا کہ جب کیلیگولا کو 41 عیسوی میں قتل کیا گیا اور شہنشاہ کلاڈیئس نے اس کی جگہ لی تو نیرو دوبارہ اگریپینا سے ملا ، جس نے بعد میں اس کے چچا کلاڈیئس سے شادی کی۔

اپنا سگا بیٹا ہونے کے باوجود کلاڈیئس نے اپنے بھتیجے اور سوتیلے بیٹے نیرو کو اپنا وارث نامزد کیا، اور نیرو نے 16 سال کی عمر میں 54 عیسوی کو اقتدار سنبھالا۔ لیکن اس کا دور اقتدار مختصر تھا، نیرو نے 30 سال کی عمر میں 68 عیسوی میں خودکشی کی تھی۔

بولوگنا کے مطابق رومن مؤرخین نے دعویٰ کیا ہے کہ نیرو نے اگریپینا سمیت اپنی دو بیویوں کو قتل کیا، اسے صرف اپنے فن کی پرواہ تھی، اور سلطنت پر حکومت کرنے میں بہت کم دلچسپی رکھتا تھا۔

 تصویر بزریعہ میوزیم آف نیرو
تصویر بزریعہ میوزیم آف نیرو

تاہم، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سانتا باربرا میں تاریخ کے ایک ریسرچ پروفیسر ایمریٹس ہیرالڈ ڈریک کہتے ہیں کہ ”یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ نیرو کے بارے میں جاننے کیلئے ہمارے ذرائع وہ لوگ ہیں جو اس سے نفرت کرتے تھے، اس کی شہرت کا زیادہ تر حصہ اس کے مخالفین نے لکھا تھا۔“

ڈریک نے کہا کہ جولائی عیسوی 64 میں نیرو، انٹیئم (جو اب سمندر کے کنارے واقع اٹلی کا شہر انزیو ہے) میں چھٹیاں گزار رہا تھا جب اسے روم کی عظیم آگ کے بارے میں معلوم ہوا۔ لیکن آگ اس سے ایک ہفتہ پہلے ہی بھڑک اٹھی تھی، روم کے 14 اضلاع میں سے 10 جل کر خاک ہو چکے تھے اور پانچ سے دس لاکھ آبادی والے شہر میں ہزاروں لوگ اپنا سب کچھ کھو چکے تھے۔

ڈریک کہتے ہیں کہ اطلاع ملتے ہی نیرو واپس روم کی طرف بھاگا۔ اس نے ہنگامی پناہ گاہ اور عوام کے لیے کھانے پینے کی اشیاء کا انتظام کیا، اور پناہ کے لیے اپنا محل اور باغات کھولے.

تو اگر نیرو آتشزدگی کے وقت روم میں نہیں تھا تو اس افواہ کی حقیقت کیا ہے کہ سلطنت کا دارالحکومت جب جل رہا تھا تو نیرو بانسری یا فڈل بجا رہا تھا۔

 تصویر بزریعہ میوزیم آف نیرو
تصویر بزریعہ میوزیم آف نیرو

نیرو خود کو ایک موسیقار تصور کرتا تھا، ایک افواہ کے مطابق امدادی کوششوں کے دوران کسی موقع پر اس نے ایک اور عظیم آگ اور ٹرائے کے زوال کے بارے میں گانا گا کر خود کو تسلی دی۔

ڈریک کہتے ہیں کہ، ”نیرو نے آگ سے نمٹنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کی تھی، اور وہ تھک چکا تھا۔“

”ایک فنکارانہ جھکاؤ کے ناطے، اس نے اس تباہی کا ٹرائے کے زوال سے موازنہ کر کے اپنے آپ کو تسلی دی، جس کے بارے میں رومی سوچتے ہیں کہ وہ افسانوی آباؤ اجداد ”اینیاس“ کی اولاد میں سے ہیں۔“

ڈریک نے مزید کہا کہ اگر نیرو روم کے جلنے کے دوران موسیقی بجاتا بھی تو وہ بانسری یا فڈل (وائلن کی ایک قسم) کا استعمال نہیں کرتا، کیونکہ اس قسم کے موسیقی کے آلات مزید ہزار سال تک مقبول نہیں ہوئے تھے۔ اس کے بجائے نیرو نے شاید ایک سیتھارا کا استعمال کیا ہوگا، جو سات تاروں والا پورٹیبل ہارپ جیسا آلہ ہے۔

 تصویر بزریعہ میوزیم آف نیرو
تصویر بزریعہ میوزیم آف نیرو

روم کی عظیم آگ کے بعد نیرو نے زمینداروں کو مالی مراعات کی پیشکش کی کہ وہ اپنی جائیداد کا ملبہ صاف کریں اور دوبارہ تعمیر شروع کریں، اور اس بات پر اصرار کیا کہ ڈویلپرز لکڑی کے بجائے پتھر کا استعمال کریں، سڑکیں سیدھی اور چوڑی بنائیں، اور شہر کے لیے پانی کی مناسب فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

ڈریک نے سوال کیا کہ ”کیا یہ کسی دیوانے کی سرگرمی لگتی ہے؟“

تو تاریخ نیرو کو ایک برے حکمران کے طور پر کیوں یاد کرتی ہے؟

جدید دنیا نیرو کے بارے میں جو کچھ بھی جانتی ہے وہ دو ذرائع سے آتا ہے، رومن سینیٹرز اور عیسائی۔ دونوں کے لیے نیرو دشمن تھا۔

ڈریک نے بتایا، ”عام طور پر سینیٹرز ایک بحال شدہ جمہوریہ کے اپنے افسانے کو تاریخ میں شامل کرنا پسند کرتے تھے، بعض اوقات قاتلانہ سازشوں میں ملوث ہو کر، اور پھر جب شہنشاہ غصے کا اظہار کرے تو وہ مشتعل ہو جاتے تھے۔“

جہاں تک عیسائیوں کا تعلق ہے، رومن سینیٹر اور مؤرخ ٹیسائٹس کا مشورہ اس کا ذمہ دار ہے، چونکہ ایک افواہ گردش کرنے لگی کہ نیرو آگ کا ذمہ دار ہے، اس لیے اس نے عیسائیوں کو قربانی کے بکرے کے طور دیکھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے لوگ مصلوب، آگ اور دیگر ذرائع سے مر گئے۔

ڈریک نے کہا کہ ٹیسائٹس کے مشورے نے اکثر عیسائیوں کو نیرو کو رومن سلطنت سے ہونے والے ظلم و ستم کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ڈریک نے کہا، ’’مجھے اس بات پر شک کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ مسیحی عوام کی ناراضگی کا شکار تھے۔ لیکن کیا نیرو نے محض خود پر سے الزام ہٹانے کے لیے اس کا فائدہ اٹھایا، یا وہ عوامی دباؤ میں آگیا تھا؟“

 تصویر بزریعہ میوزیم آف نیرو
تصویر بزریعہ میوزیم آف نیرو

ڈریک نے کہا، ”مجھے اس بات پر شک کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ عیسائیوں کو عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔“

”لیکن کیا نیرو نے محض خود پر سے الزام ہٹانے کے لیے اس کا فائدہ اٹھایا، یا وہ عوامی دباؤ میں آ رہا تھا؟“

ڈریک نے کہا کہ آخر میں روم کی عظیم آگ کے بعد امرا کے ایک گروہ نے اسے قتل کرنے کی کوشش کی، اور نیرو تیزی سے وسوسوں کا شکار ہوگیا اور بالآخر خودکشی کرلی۔

HISTORY

weird

Nero

Great Fire of Rome

Comments are closed on this story.